قریب ہو گی کہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے کیا تمھارے پا س کوئی ڈرانے والا نہیں آیا؟
En
گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تھا؟
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ تَكَادُتَمَیَّزُمِنَالْغَیْظِ﴾”گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔“ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟
جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿كُلَّمَاۤاُلْ٘قِیَفِیْهَافَوْجٌسَاَلَهُمْخَزَنَتُهَاۤاَلَمْیَ٘اْتِكُمْنَذِیْرٌ﴾”جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔“ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{تكادُ تَمَيَّزُ من الغيظِ}؛ أي: تكاد على اجتماعها أن يفارق بعضها بعضاً وتتقطَّع من شدة غيظها على الكفار؛ فما ظنُّك ما تفعل بهم إذا حُصِّلُوا فيها؟! ثم ذكر توبيخ الخزنة لأهلها، فقال: {كلَّما أُلقي فيها فوجٌ سألهم خَزَنَتُها ألم يأتِكُم نذيرٌ}؛ أي: حالكم هذه واستحقاقكم النار كأنكم لم تخبَّروا عنها ولم تحذِّرْكم النذرُ منها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔