تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِذَاۤاُلْقُوْافِیْهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوْالَهَاشَهِیْقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِیَتَفُوْرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إذا أُلقوا فيها}: على وجه الإهانةِ والذُّلِّ، {سمعوا لها شهيقاً}؛ أي: صوتاً عالياً فظيعاً.