تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 7

اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِیۡہَا سَمِعُوۡا لَہَا شَہِیۡقًا وَّ ہِیَ تَفُوۡرُ ۙ﴿۷﴾
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے، اس کے لیے گدھے کے زور سے چیخنے جیسی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔ En
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی
En
جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وه جوش مار رہی ہوگی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِیَ تَفُوْرُ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذا أُلقوا فيها}: على وجه الإهانةِ والذُّلِّ، {سمعوا لها شهيقاً}؛ أي: صوتاً عالياً فظيعاً.