ترجمہ و تفسیر — سورۃ الملك (67) — آیت 8

تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ کُلَّمَاۤ اُلۡقِیَ فِیۡہَا فَوۡجٌ سَاَلَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَذِیۡرٌ ﴿۸﴾
قریب ہو گی کہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے کیا تمھارے پا س کوئی ڈرانے والا نہیں آیا؟ En
گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تھا؟
En
قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9،8){ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ …: تَمَيَّزُ } اصل میں {تَتَمَيَّزُ} (تفعّل) ہے، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کر دی گئی۔ قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے اس سے آگ کا صاحب شعور ہونا اور کفار پر سخت غصے ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ جہنم کے اس وقت کے سخت غصے اور جوش و خروش کا نقشہ اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کھینچا جا سکتا۔ جہنم میں جب بھی کسی نئے گروہ کے لوگ پھینکے جائیں گے تو جہنم کے نگران فرشتے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ یہ سوال ہر گروہ سے ہوگا اور اس لیے نہیں ہوگا کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ ان کے پاس ڈرانے والے آئے تھے یا نہیں، بلکہ ایک تو تعجب کے اظہار کے لیے ہو گا کہ اللہ کی طرف سے پیغمبروں اور دین کی دعوت دینے والوں کے ڈرانے کے باوجود تم ایمان نہ لائے اور جان بوجھ کر جہنم کا ایندھن بنے، دوسرا ان پر حجت تمام کرنے کے لیے اور خود ان کے منہ سے نکلوانے کے لیے کہ انھیں نہ تو بے خبری میں جہنم میں پھینکا جا رہا ہے اور نہ بلاجرم، بلکہ وہ فی الواقع اس کے حق دار ہیں۔ چنانچہ وہ خود کہیں گے، کیوں نہیں، ہمارے پاس ڈرانے والے آئے اور انھوں نے اللہ کی اتاری ہوئی پوری تعلیم بھی ہم تک پہنچائی، مگر ہم نے انھیں جھٹلا دیا اور اس بات سے سرے سے انکار کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل کی ہے، بلکہ الٹا انھی کو بڑی گمراہی میں مبتلا قرار دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 یا مارے غیظ وغضب کے اس کے حصے ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے یہ جہنم کافروں کو دیکھ کر غضب ناک ہوگی جس کا شعور اللہ تعالیٰ اس کے اندر پیدا فرما دے گا اللہ تعالیٰ کے لیے جہنم کے اندر یہ ادراک وشعور پیدا کردینا کوئی مشکل نہیں۔ 8۔ 2 جس کی وجہ سے تمہیں آج جہنم کے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ ایسا معلوم ہو گا کہ غصہ کی وجہ سے پھٹ پڑے گی۔ جب بھی اس میں کوئی گروہ پھینکا جائے گا تو دوزخ کے محافظ ان سے پوچھیں گے: ”کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا تھا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟
جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿كُلَّمَاۤ اُلْ٘قِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَ٘اْتِكُمْ نَذِیْرٌ جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{تكادُ تَمَيَّزُ من الغيظِ}؛ أي: تكاد على اجتماعها أن يفارق بعضها بعضاً وتتقطَّع من شدة غيظها على الكفار؛ فما ظنُّك ما تفعل بهم إذا حُصِّلُوا فيها؟! ثم ذكر توبيخ الخزنة لأهلها، فقال: {كلَّما أُلقي فيها فوجٌ سألهم خَزَنَتُها ألم يأتِكُم نذيرٌ}؛ أي: حالكم هذه واستحقاقكم النار كأنكم لم تخبَّروا عنها ولم تحذِّرْكم النذرُ منها.