تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 9

قَالُوۡا بَلٰی قَدۡ جَآءَنَا نَذِیۡرٌ ۬ۙ فَکَذَّبۡنَا وَ قُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ ۚۖ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ کَبِیۡرٍ ﴿۹﴾
وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ یقینا ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔ En
وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو
En
وه جواب دیں گے کہ بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلایا اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نےکچھ بھی نازل نہیں فرمایا۔ تم بہت بڑی گمراہی میں ہی ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖ ۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی گمراہی کو بہت بڑی گمراہی قرار دیا۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا بلى قد جاءنا نذيرٌ فكذَّبنا وقُلْنا ما نَزَّلَ الله من شيءٍ إن أنتُم إلاَّ في ضلالٍ كبيرٍ}: فجمعوا بين تكذيبهم الخاص والتكذيب العامِّ بكلِّ ما أنزل الله، ولم يكفهم ذلك، حتى أعلنوا بضلال الرُّسل المنذرين، وهم الهداة المهتدون، ولم يكتفوا بمجرَّد الضلال، بل جعلوا ضلالهم ضلالاً كبيراً؛ فأيُّ عنادٍ وتكبُّر وظلم يشبه هذا؟!