تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 13

وَ اَسِرُّوۡا قَوۡلَکُمۡ اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۳﴾
اور تم اپنی بات کو چھپاؤ، یا اسے بلند آواز سے کرو (برابر ہے)، یقینا وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والاہے۔ En
اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر۔ وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے
En
تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے وسیع علم، بے پایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر۔ یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس ﴿ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ وہ سینے میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے، وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جا سکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إخبارٌ من الله بسعة علمه وشمول لطفه، فقال: {وأسِرُّوا قولَكم أو اجْهَروا به}؛ أي: كلّها سواءٌ لديه لا يخفى عليه منها خافيةٌ، فَـ {إنَّه عليمٌ بذات الصُّدور}؛ أي: بما فيها من النيَّات والإرادات؛ فكيف بالأقوال والأفعال التي تُسمع وتُرى؟!