ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الملك (67) — آیت 13

وَ اَسِرُّوۡا قَوۡلَکُمۡ اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۱۳﴾
اور تم اپنی بات کو چھپاؤ، یا اسے بلند آواز سے کرو (برابر ہے)، یقینا وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والاہے۔ En
اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر۔ وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے
En
تم اپنی باتوں کو چھپاؤ یا ﻇاہر کرو وه تو سینوں کی پوشیدگی کو بھی بخوبی جانتا ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13۔ 1 یہ پھر کافروں سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں چھپ کر باتیں کرو یا اعلان یہ سب اللہ کے علم میں ہے، اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ تو سینوں کے رازوں اور دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تمہاری باتیں کس طرح اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔