تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَایَعْلَمُمَنْخَلَقَ﴾ یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا ہے وہ سینوں کے بھید کیوں کر نہ جانتی ہو گی؟ ﴿ وَهُوَاللَّطِیْفُالْخَبِیْرُ﴾ اس کے علم و خبر بہت لطیف ہیں حتیٰ کہ وہ سینے کے بھیدوں، ضمیر کے رازوں، تمام چھپی ہوئی چیزوں، خفیہ امور اور غیوب کو جانتا ہے، وہی ہے جو ﴿ یَعْلَمُالسِّرَّوَاَخْ٘فٰى﴾ (طٰہٰ:20؍7) ”چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔“
(اَللَّطِیفُ) کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندے اور دوست کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آتا ہے، اس کے ساتھ احسان اور نیکی اس طرح کرتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے شر سے بچاتا ہے جہاں اسے وہم و گمان نہیں ہوتا، وہ اسے ایسے اسباب کے ذریعے سے اعلیٰ مراتب پر فائز کرتا ہے، جو بندے کے تصور میں بھی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اسے ناگوار حالات کا مزا چکھاتا ہے اور ان کے ذریعے سے اسے جلیل القدر محبوبات اور اعلیٰ مطالب و مقاصد تک پہنچاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال مستدلًّا بدليل عقليٍّ على علمه: {ألا يعلمُ مَنْ خَلَقَ}؛ فمن خَلَقَ الخلقَ وأتقنه وأحسنه؛ كيف لا يعلمه؟! {وهو اللطيفُ الخبيرُ}: الذي لطف علمه وخبره، حتى أدرك السرائر والضمائر والخبايا والخفايا والغيوب، {وهو الذي يعلمُ السِّرَّ وأخفى}، ومن معاني اللطيف أنَّه الذي يَلْطُفُ بعبدِهِ ووليِّه، فيسوق إليه البِرَّ والإحسان من حيث لا يشعر، ويعصِمُه من الشرِّ من حيث لا يحتسب، ويرقِّيه إلى أعلى المراتب بأسبابٍ لا تكون من العبد على بالٍ، حتى إنَّه يذيقُه المكارِهَ ليوصله بها إلى المحابِّ الجليلة والمطالب النبيلة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔