تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الملك (67) — آیت 12

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۲﴾
یقینا جو لوگ اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بڑا اجر ہے۔ En
(اور) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے
En
بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سےغائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا ﺛواب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے بدبخت فاجروں کا ذکر کیا تو سعادت مند نیک لوگوں کا وصف بھی بیان کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ بے شك وه لوگ جو اپنے تمام احوال میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پس وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں نہ اس کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرتے ہیں جو ان کو دیا گیا ہے ﴿ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ ان کے لیے ان کے گناہوں کی بخشش ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا تو اس نے ان کو ان گناہوں کے شر اور جہنم کے عذاب سے بچا لیا۔ ﴿ وَ اور ان کے لیے ﴿ اَجْرٌؔ كَبِیْرٌ بڑا اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار رکھا ہے، یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، بہت بڑی بادشاہی، پیہم لذتیں، محلات، بلند بالا خانے، گوری چٹی خوبصورت عورتیں، خدمت گار اور خدمت کرنے والے لڑکے۔ اس سے بھی عظیم تر اور بڑا اجر رحمان کی رضا ہے جو جنت کے رہنے والوں کو حاصل ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر حالة الأشقياء الفجَّار؛ ذكر وصف الأبرار السعداء ، فقال: {إنَّ الذين يخشَوْنَ ربَّهم بالغيب}؛ أي: في جميع أحوالهم، حتى في الحالة التي لا يطَّلع عليهم فيها إلاَّ الله؛ فلا يقدِمون على معاصيه، ولا يقصِّرون عمَّا أمرهم به. {لهم مغفرةٌ}: لذنوبهم، وإذا غَفَرَ الله ذنوبَهم؛ وقاهم شرَّها ووقاهم عذاب الجحيم. {ولهم أجرٌ كبيرٌ}: وهو ما أعدَّه الله لهم في الجنة من النعيم المقيم والملك الكبير واللذَّاتِ المتواصلات والقصور والمنازل العاليات والحور الحسان والخدم والولدان، وأعظم من ذلك وأكبر، رضا الرحمن الذي يُحِلُّه على ساكني الجنان.