کہہ دے بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، سو یقینا وہ تم سے ملنے والی ہے، پھر تم ہر پوشیدہ اورظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
En
کہہ دو کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آ کر رہے گی۔ پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا
کہہ دیجئے! کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وه تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وه تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔
پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا؛ وإن كانوا لا يَتَمَنَّوْنَ الموت بما قدَّمت أيديهم، بل يفرُّون منه غايةَ الفرار؛ فإنَّ ذلك لا يُنجيهم، بل لابدَّ أن يُلاقيهم الموتُ الذي قد حَتَّمه الله على العباد [وكتبه عليهم]، ثم بعد الموت واستكمال الآجال يُرَدُّ الخَلْقُ كلُّهم يوم القيامةِ إلى عالم الغيب والشهادة، فينبِّئهم بما كانوا يعملون من خيرٍ وشرٍّ قليل وكثيرٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔