اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
En
مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو خدا کی یاد (یعنی نماز) کے لئے جلدی کرو اور (خریدو) فروخت ترک کردو۔ اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ”سعی“ سے مراد جلدی کرنا، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَذَرُواالْ٘بَیْعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمْخَیْرٌلَّكُمْ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنْكُنْتُمْتَعْلَمُوْنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عباده المؤمنين بالحضور لصلاة الجمعة والمبادرة إليها من حين يُنادى لها والسعي إليها، والمراد بالسَّعْي هنا المبادرة [إليها] والاهتمام لها وجعلها أهمَّ الأشغال، لا العدو الذي قد نُهِيَ عنه عند المضيِّ إلى الصلاة. وقوله: {وذَروا البيعَ}؛ أي: اتركوا البيع إذا نودي للصلاة وامضوا إليها؛ فإنَّ {ذلكم خيرٌ لكم}: من اشتغالكم بالبيع، أو تفويتكم الصلاة الفريضة التي هي من آكدِ الفروض {إن كنتُم تعلمون}: أن ما عند الله خيرٌ وأبقى، وأنَّ مَنْ آثر الدُّنيا على الدين؛ فقد خسر الخسارة الحقيقيَّة؛ من حيث يظنُّ أنَّه يربح.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔