ترجمہ و تفسیر — سورۃ الجمعة (62) — آیت 8

قُلۡ اِنَّ الۡمَوۡتَ الَّذِیۡ تَفِرُّوۡنَ مِنۡہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیۡکُمۡ ثُمَّ تُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ٪﴿۸﴾
کہہ دے بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو، سو یقینا وہ تم سے ملنے والی ہے، پھر تم ہر پوشیدہ اورظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ En
کہہ دو کہ موت جس سے تم گریز کرتے ہو وہ تو تمہارے سامنے آ کر رہے گی۔ پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا
En
کہہ دیجئے! کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وه تو تمہیں پہنچ کر رہے گی پھر تم سب چھپے کھلے کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وه تمہیں تمہارے کیے ہوئے تمام کام بتلا دے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 7 میں تا آیت 9 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ آپ ان سے کہیے: جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آکے رہے [13] گی پھر تم اس کے ہاں لوٹائے جاؤ گے جو غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے؟
[13] یہود کا دنیا کی ذلت کی زندگی سے پیار اور سب یہودی قبائل کا لڑنے کی بجائے قلعہ بند ہونا :۔
ان کی دنیا کی زندگی سے محبت اور موت سے فرار کا یہ حال ہے کہ ذلیل سے ذلیل تر زندگی کو بھی موت پر ترجیح دیتے ہیں۔ اسی زندگی کی حرص نے انہیں مال و دولت، سازو سامان، اسلحہ اور سامان رسد کی فراوانی کے باوجود ایک بزدل قوم بنا دیا تھا۔ شیخیاں بگھارنے میں بڑے ہوشیار اور تیز طرار، مگر مقابلے میں انتہائی ڈرپوک، اسی وجہ سے یہودیوں کے تینوں قبیلوں میں سے کسی نے بھی مسلمانوں سے میدان میں آکر جنگ نہیں کی۔ بنو قینقاع بھی قلعہ بند ہوئے۔ بنو نضیر بھی اور بنو قریظہ بھی۔ کیونکہ یہود موت سے ڈرتے تھے جبکہ مسلمان موت سے بہت محبت رکھتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس موت سے تم بہرصورت بچنا چاہتے ہو وہ تو تمہیں آکے رہے گی۔ اور تمہیں اللہ کے حضور پیش بھی ہونا ہی پڑے گا۔ پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم اللہ کے چہیتے اور لاڈلے تھے یا اس کی لعنت اور اس کے غصہ میں گرفتار تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موت سے مضر نہیں ٭٭
پھر فرماتا ہے موت سے تو کوئی بچ ہی نہیں سکتا، جیسے سورۃ نساء میں ہے «أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ» [4-النساء:78]‏‏‏‏ یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو وہاں تمہیں موت پا ہی لے گی گو مضبوط محلوں میں ہو، معجم طبرانی کی ایک مرفوع حدیث میں ہے { موت سے بھاگنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک لومڑی ہو جس پر زمین کا کچھ قرض ہو وہ اس خوف سے کہ کہیں یہ مجھ سے مانگ نہ بیٹھے، بھاگے، بھاگتے بھاگتے جب تھک جائے تب اپنے بھٹ میں گھس جائے، جہاں گھسی اور زمین نے پھر اس سے تقاضا کیا کہ لومڑی میرا قرض ادا کر دو پھر وہاں سے دم دبائے ہوئے تیزی سے بھاگی آخر یونہی بھاگتے بھاگتے ہلاک ہو گئی۔ } [طبرانی6922ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔
پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا؛ وإن كانوا لا يَتَمَنَّوْنَ الموت بما قدَّمت أيديهم، بل يفرُّون منه غايةَ الفرار؛ فإنَّ ذلك لا يُنجيهم، بل لابدَّ أن يُلاقيهم الموتُ الذي قد حَتَّمه الله على العباد [وكتبه عليهم]، ثم بعد الموت واستكمال الآجال يُرَدُّ الخَلْقُ كلُّهم يوم القيامةِ إلى عالم الغيب والشهادة، فينبِّئهم بما كانوا يعملون من خيرٍ وشرٍّ قليل وكثيرٍ.