تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجمعة (62) — آیت 7

وَ لَا یَتَمَنَّوۡنَہٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِالظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷﴾
اور وہ کبھی اس کی تمنا نہیں کریں گے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ En
اور یہ ان (اعمال) کے سبب جو کرچکے ہیں ہرگز اس کی آرزو نہیں کریں گے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
En
یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہ کریں گے بوجہ ان اعمال کے جو اپنے آگے اپنے ہاتھوں بھیج رکھے ہیں اور اللہ ﻇالموں کو خوب جانتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا لم يقعْ منهم مع الإعلانِ لهم بذلك؛ عُلِمَ أنَّهم عالمون ببطلان ما هم عليه وفساده، ولهذا قال: {ولا يَتَمَنَّوْنَه أبداً بما قدَّمت أيديهم}؛ أي: من الذنوب والمعاصي التي يستوحشون من الموت من أجلها، {واللهُ عليمٌ بالظالمين}: فلا يمكن أن يَخْفى عليه من ظلمهم شيءٌ.