تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا:﴿ وَلَایَتَمَنَّوْنَهٗۤ۠اَبَدًۢابِمَاقَدَّمَتْاَیْدِیْهِمْ ﴾”اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔“ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُعَلِیْمٌۢبِالظّٰلِمِیْنَ ﴾”اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔“لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا لم يقعْ منهم مع الإعلانِ لهم بذلك؛ عُلِمَ أنَّهم عالمون ببطلان ما هم عليه وفساده، ولهذا قال: {ولا يَتَمَنَّوْنَه أبداً بما قدَّمت أيديهم}؛ أي: من الذنوب والمعاصي التي يستوحشون من الموت من أجلها، {واللهُ عليمٌ بالظالمين}: فلا يمكن أن يَخْفى عليه من ظلمهم شيءٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔