اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
En
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔ خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَایَنْهٰؔىكُمُاللّٰهُعَنِالَّذِیْنَلَمْیُقَاتِلُوْؔكُمْفِیالدِّیْنِوَلَمْیُخْرِجُوْؔكُمْمِّنْدِیَ٘ارِكُمْاَنْتَبَرُّوْهُمْوَتُقْسِطُوْۤااِلَیْهِمْ١ؕاِنَّاللّٰهَیُحِبُّالْمُقْسِطِیْنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا: ﴿ وَاِنْجَاهَدٰؔكَعَلٰۤىاَنْتُ٘شْرِكَبِیْمَالَ٘یْسَلَكَبِهٖعِلْمٌ١ۙفَلَاتُطِعْهُمَاوَصَاحِبْهُمَافِیالدُّنْیَامَعْرُوْفًا﴾ (لقمان:31؍15) ”اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا نزلت هذه الآيات الكريمات المهيِّجةُ على عداوة الكافرين؛ وقعتْ من المؤمنين كلَّ موقع، وقاموا بها أتمَّ القيام، وتَأثَّموا من صِلَةِ بعض أقاربهم المشركين، وظنُّوا أنَّ ذلك داخل فيما نهى الله عنه، فأخبرهم الله أن ذلك لا يدخُلُ في المحرم، فقال: {لا ينهاكُمُ الله عن الذين لم يقاتِلوكم في الدِّينِ ولم يُخْرِجُوكم من دياركُم أن تَبَرُّوهم وتُقْسِطوا إليهم إنَّ الله يحبُّ المقسِطينَ}؛ أي: لا ينهاكم الله عن البرِّ والصِّلة والمكافأة بالمعروف والقسطِ للمشركين من أقاربكم وغيرهم؛ حيث كانوا بحالٍ لم ينتصبوا لقتالكم في الدين والإخراج من دياركم؛ فليس عليكم جناحٌ أن تَصِلوهم؛ فإنَّ صِلَتَهم في هذه الحالة لا محذورَ فيها ولا تَبِعَةَ ؛ كما قال تعالى في الأبوين الكافرين إذا كان ولدهما مسلماً: {وإن جاهَداك على أن تشرِكَ بي ما ليس لك به علمٌ فلا تُطِعْهما وصاحِبْهما في الدُّنيا معروفاً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔