اللہ تو تمھیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا اور تمھارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔
En
خدا ان ہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں
اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تمہیں شہر سے نکال دیئے اور شہر سے نکالنے والوں کی مدد کی جو لوگ ایسے کفار سے محبت کریں وه (قطعاً) ﻇالم ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّمَایَنْهٰؔىكُمُاللّٰهُعَنِالَّذِیْنَقٰتَلُوْؔكُمْفِیالدِّیْنِ﴾”اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخْرَجُوْؔكُمْمِّنْدِیَ٘ارِكُمْوَظٰهَرُوْا ﴾”اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔“ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤىاِخْرَاجِكُمْ ﴾”تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔“ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنْتَوَلَّوْهُمْ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔
﴿ وَمَنْیَّتَوَلَّهُمْفَاُولٰٓىِٕكَهُمُالظّٰلِمُوْنَ ﴾”اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔“ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {إنَّما ينهاكُم اللهُ عن الذين قاتَلوكم في الدِّين}؛ أي: لأجل دينكم؛ عداوةً لدين الله ولِمَنْ قام به، {وأخْرَجوكم من دِياركم وظاهَروا}؛ أي: عاونوا غيرهم {على إخراجِكم}: نهاكم الله {أن تَوَلَّوهم}: بالنصرة والموَّدة بالقول والفعل، وأما بِرُّكم وإحسانُكم الذي ليس بتولٍّ للمشركين؛ فلم ينهكم الله عنه، بل ذلك داخلٌ في عموم الأمر بالإحسان إلى الأقارب وغيرهم من الآدميين وغيرهم، {ومن يَتَوَلَّهم} منكم {فأولئك هم الظالمونَ}: وذلك الظلمُ يكون بحسب التولِّي؛ فإنْ كان تولياً تامًّا؛ كان ذلك كفراً مخرجاً عن دائرة الإسلام وتحت ذلك من المراتب ما هو غليظٌ وما هو دونه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔