تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما بیان کرتی ہیں کہ میری ماں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (معاہدۂ صلح کے دوران حسنِ سلوک کی) امید رکھتے ہوئے میرے پاس آئی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کیا میں اس سے حسن سلوک کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ ابن عیینہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: «لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ» ”اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی۔“ [بخاري، الأدب، باب صلۃ الوالد المشرک: ۵۹۷۸] اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی حلہ عطا فرمایا، انھوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [بخاري، الأدب، باب صلۃ الأخ المشرک: ۵۹۸۱]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا» [3-آل عمران:103] الخ ’ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہو گئے جیسے ماں جائے بھائی ہوں تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ ‘
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم متفرق تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کر دیا۔“ } [صحیح بخاری:4330]
{ ایک حدیث میں ہے دوستوں کی دوستی کے وقت بھی اس بات کو پیش نظر رکھو کہ کیا عجب اس سے کسی وقت دشمنی ہو جائے اور دشمنوں کی دشمنی میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو کیا خبر کب دوستی ہو جائے۔ } [سنن ترمذي:1997،قال الشيخ الألباني:صحیح]
عرب شاعر کہتا ہے «وَقَدْ يَجْمَع اللَّه الشَّتِيتَيْنِ بَعْد مَا» «يَظُنَّانِ كُلّ الظَّنّ أَنْ لَا تَلَاقِيَا» یعنی ایسے دو دشمنوں میں بھی جو ایک سے ایک جدا ہوں اور اس طرح کہ دل میں گرہ دے لی ہو کہ ابد الآباد تک اب کبھی نہ ملیں گے اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کر دیتا ہے اور اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ گویا کبھی دو نہ تھے، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، کافر جب توبہ کریں تو اللہ قبول فرما لے گا جب وہ اس کی طرف جھکیں وہ انہیں اپنے سائے میں لے لے گا، کوئی سا گناہ ہو اور کوئی سا گنہگار ہو مالک کی طرف جھکا ادھر اس کی رحمت کی آغوش کھلی۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جن کفار نے تم سے مذہبی لڑائی نہیں کی، نہ تمہیں جلا وطن کیا جیسے عورتیں اور کمزور لوگ وغیرہ ان کے ساتھ سلوک و احسان اور عدل و انصاف کرنے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ایسے باانصاف لوگوں سے محبت رکھتا ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مشرک ماں آئیں یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح نامہ ہو چکا تھا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھتی ہیں کہ میری ماں آئی ہوئی ہیں اور اب تک وہ اس دین سے الگ ہیں کیا مجھے جائز ہے کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں،جاؤ ان سے صلہ رحمی کرو۔“ [صحیح بخاری:2620]
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ممانعت تو ان لوگوں کی دوستی سے ہے جو تمہاری عداوت سے تمہارے مقابل نکل کھڑے ہوئے، تم سے صرف تمہارے مذہب کی وجہ سے لڑے جھگڑے، تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا، تمہارے دشمنوں کی مدد کی۔ پھر مشرکین سے اتحاد و اتفاق، دوستی، یکجہتی رکھنے والے کو دھمکاتا ہے اور اس کا گناہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے والے ظالم گناہ گار ہیں اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [5-المائدہ:51] یہودیوں نصرانیوں سے دوستی کرنے والا ہمارے نزدیک انہی جیسا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا نزلت هذه الآيات الكريمات المهيِّجةُ على عداوة الكافرين؛ وقعتْ من المؤمنين كلَّ موقع، وقاموا بها أتمَّ القيام، وتَأثَّموا من صِلَةِ بعض أقاربهم المشركين، وظنُّوا أنَّ ذلك داخل فيما نهى الله عنه، فأخبرهم الله أن ذلك لا يدخُلُ في المحرم، فقال: {لا ينهاكُمُ الله عن الذين لم يقاتِلوكم في الدِّينِ ولم يُخْرِجُوكم من دياركُم أن تَبَرُّوهم وتُقْسِطوا إليهم إنَّ الله يحبُّ المقسِطينَ}؛ أي: لا ينهاكم الله عن البرِّ والصِّلة والمكافأة بالمعروف والقسطِ للمشركين من أقاربكم وغيرهم؛ حيث كانوا بحالٍ لم ينتصبوا لقتالكم في الدين والإخراج من دياركم؛ فليس عليكم جناحٌ أن تَصِلوهم؛ فإنَّ صِلَتَهم في هذه الحالة لا محذورَ فيها ولا تَبِعَةَ ؛ كما قال تعالى في الأبوين الكافرين إذا كان ولدهما مسلماً: {وإن جاهَداك على أن تشرِكَ بي ما ليس لك به علمٌ فلا تُطِعْهما وصاحِبْهما في الدُّنيا معروفاً}.