تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الممتحنة (60) — آیت 7

عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّجۡعَلَ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَ الَّذِیۡنَ عَادَیۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ مَّوَدَّۃً ؕ وَ اللّٰہُ قَدِیۡرٌ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷﴾
قریب ہے کہ اللہ تمھارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم ان میں سے دشمنی رکھتے ہو، دوستی پیدا کر دے اور اللہ بہت قدرت رکھنے والاہے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا کردے۔ اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
کیا عجب کہ عنقریب ہی اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے۔ اللہ کو سب قدرتیں ہیں اور اللہ (بڑا) غفور رحیم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّؔنْهُمْ مَّوَدَّةً عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِیْرٌ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌؔ رَّحِیْمٌ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُ٘لْ یٰؔعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (الزمر:39؍53) (اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ .
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر تعالى أنَّ هذه العداوة التي أمَرَ [اللَّهُ] بها المؤمنين للمشركين ووصفهم بالقيام بها؛ أنَّهم ما داموا على شركهم وكفرهم، وأنَّهم إن انتقلوا إلى الإيمان؛ فإنَّ الحكم يدور مع علته، والمودَّة الإيمانيَّة ترجع؛ فلا تيأسوا أيُّها المؤمنون من رجوعهم إلى الإيمان؛ {عسى اللهُ أن يجعلَ بينكم وبين الذين عادَيْتُم منهم مودةً}: سببها رجوعهم إلى الإيمان. {والله قديرٌ}: على كلِّ شيءٍ، ومن ذلك هداية القلوب وتقليبها من حال إلى حال. {والله غفورٌ رحيمٌ}: لا يتعاظمُهُ ذنبٌ أن يغفِرَه ولا [يكبر عليه] عيبٌ أن يستُرَه، {قلْ يا عبادي الذين أسْرَفوا على أنفسِهِم لا تَقْنَطوا من رحمةِ الله إنَّ اللهَ يغفرُ الذُّنوب جميعاً إنَّه هو الغفورُ الرحيمُ}. وفي هذه الآية إشارةٌ وبشارةٌ بإسلام بعض المشركين، الذين كانوا إذ ذاك أعداء للمؤمنين، وقد وقع ذلك، ولله الحمد والمنة.