تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اللّٰهُ قَدِيْرٌ:} بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو مکہ سے نکالا، مدینہ میں بھی چین نہ لینے دیا، بدر و احد، خندق اور دوسرے معرکے برپا کیے وہ دوبارہ دوست بن جائیں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے لیے دلوں کو پھیر دینا کچھ مشکل نہیں۔ چنانچہ ان آیات کے نزول کے بعد تھوڑی مدت ہی گزری تھی کہ مکہ فتح ہو گیا، قریش اور دوسرے قبائل فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور سوائے ان کفار کے جو قتل ہوگئے تھے، آخر کار سب مسلمان ہو گئے، حتیٰ کہ جزیرۂ عرب میں کوئی مشرک باقی نہ رہا۔ ابو سفیان اور دوسرے قریشی سردار جو مسلمانوں کے خلاف لڑتے آئے تھے، اب اسلام کی سربلندی کے لیے سربکف ہو کر لڑنے لگے۔
➌ {وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی مشرکین نے اب تک اہلِ ایمان سے جو عداوت رکھی اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت و رحمت کی وجہ سے اس سے درگزر فرما کر انھیں ایمان لانے اور مسلمانوں کے دوست بن جانے کی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[17] یعنی اللہ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ حالات کا رخ اس طرح موڑ دے کہ مکہ بھی فتح ہو جائے۔ کشت و خون بھی نہ ہو اور کافروں کی اکثریت بھی مسلمان ہو کر تمہارے ساتھ مل جائے۔ رہی وہ غلطی جو اس سلسلہ میں تم نے کی ہے۔ تو اللہ اس غلطی کو بھی اور اسی طرح تمہاری دوسری غلطیوں اور لغزشوں کو بھی از راہ کرم معاف کر دینے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے «وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا» [3-آل عمران:103] الخ ’ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہو گئے جیسے ماں جائے بھائی ہوں تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے لیکن اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ ‘
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی اور تم متفرق تھے میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جمع کر دیا۔“ } [صحیح بخاری:4330]
{ ایک حدیث میں ہے دوستوں کی دوستی کے وقت بھی اس بات کو پیش نظر رکھو کہ کیا عجب اس سے کسی وقت دشمنی ہو جائے اور دشمنوں کی دشمنی میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو کیا خبر کب دوستی ہو جائے۔ } [سنن ترمذي:1997،قال الشيخ الألباني:صحیح]
عرب شاعر کہتا ہے «وَقَدْ يَجْمَع اللَّه الشَّتِيتَيْنِ بَعْد مَا» «يَظُنَّانِ كُلّ الظَّنّ أَنْ لَا تَلَاقِيَا» یعنی ایسے دو دشمنوں میں بھی جو ایک سے ایک جدا ہوں اور اس طرح کہ دل میں گرہ دے لی ہو کہ ابد الآباد تک اب کبھی نہ ملیں گے اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کر دیتا ہے اور اس طرح ایک ہو جاتے ہیں کہ گویا کبھی دو نہ تھے، اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، کافر جب توبہ کریں تو اللہ قبول فرما لے گا جب وہ اس کی طرف جھکیں وہ انہیں اپنے سائے میں لے لے گا، کوئی سا گناہ ہو اور کوئی سا گنہگار ہو مالک کی طرف جھکا ادھر اس کی رحمت کی آغوش کھلی۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جن کفار نے تم سے مذہبی لڑائی نہیں کی، نہ تمہیں جلا وطن کیا جیسے عورتیں اور کمزور لوگ وغیرہ ان کے ساتھ سلوک و احسان اور عدل و انصاف کرنے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ایسے باانصاف لوگوں سے محبت رکھتا ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کی مشرک ماں آئیں یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح نامہ ہو چکا تھا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر مسئلہ پوچھتی ہیں کہ میری ماں آئی ہوئی ہیں اور اب تک وہ اس دین سے الگ ہیں کیا مجھے جائز ہے کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں،جاؤ ان سے صلہ رحمی کرو۔“ [صحیح بخاری:2620]
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ممانعت تو ان لوگوں کی دوستی سے ہے جو تمہاری عداوت سے تمہارے مقابل نکل کھڑے ہوئے، تم سے صرف تمہارے مذہب کی وجہ سے لڑے جھگڑے، تمہیں تمہارے شہروں سے نکال دیا، تمہارے دشمنوں کی مدد کی۔ پھر مشرکین سے اتحاد و اتفاق، دوستی، یکجہتی رکھنے والے کو دھمکاتا ہے اور اس کا گناہ بتاتا ہے کہ ایسا کرنے والے ظالم گناہ گار ہیں اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [5-المائدہ:51] یہودیوں نصرانیوں سے دوستی کرنے والا ہمارے نزدیک انہی جیسا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر تعالى أنَّ هذه العداوة التي أمَرَ [اللَّهُ] بها المؤمنين للمشركين ووصفهم بالقيام بها؛ أنَّهم ما داموا على شركهم وكفرهم، وأنَّهم إن انتقلوا إلى الإيمان؛ فإنَّ الحكم يدور مع علته، والمودَّة الإيمانيَّة ترجع؛ فلا تيأسوا أيُّها المؤمنون من رجوعهم إلى الإيمان؛ {عسى اللهُ أن يجعلَ بينكم وبين الذين عادَيْتُم منهم مودةً}: سببها رجوعهم إلى الإيمان. {والله قديرٌ}: على كلِّ شيءٍ، ومن ذلك هداية القلوب وتقليبها من حال إلى حال. {والله غفورٌ رحيمٌ}: لا يتعاظمُهُ ذنبٌ أن يغفِرَه ولا [يكبر عليه] عيبٌ أن يستُرَه، {قلْ يا عبادي الذين أسْرَفوا على أنفسِهِم لا تَقْنَطوا من رحمةِ الله إنَّ اللهَ يغفرُ الذُّنوب جميعاً إنَّه هو الغفورُ الرحيمُ}. وفي هذه الآية إشارةٌ وبشارةٌ بإسلام بعض المشركين، الذين كانوا إذ ذاك أعداء للمؤمنين، وقد وقع ذلك، ولله الحمد والمنة.