بلا شبہ یقینا تمھارے لیے ان میں اچھا نمونہ تھا، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور جو کوئی منہ پھیرے تو یقینا اللہ ہی وہ ذات ہے جو بے پروا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
En
تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے) اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ اور روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ اور سزاوار حمد (وثنا) ہے
یقیناً تمہارے لیے ان میں اچھا نمونہ (اور عمده پیروی ہے خاص کر) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو، اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور سزا وار حمد وﺛنا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدْكَانَلَكُمْفِیْهِمْاُسْوَةٌحَسَنَةٌ﴾”تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔“ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّ٘مَنْكَانَیَرْجُوااللّٰهَوَالْیَوْمَالْاٰخِرَ﴾”جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔“ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔
﴿ وَمَنْیَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّاللّٰهَهُوَالْغَنِیُّ ﴾”بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔“ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الْحَمِیْدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم كرَّر الحثَّ لهم على الاقتداء بهم وقال: {لقد كان لكم فيهم أسوةٌ حسنةٌ}: وليس كلُّ أحدٍ تسهُلُ عليه هذه الأسوة، وإنما تسهل على من {كان يرجو اللهَ واليومَ الآخرَ}: فإنَّ الإيمان واحتساب الأجر والثواب يسهِّل على العبد كلَّ عسير، ويقلِّل لديه كلَّ كثير، ويوجِبُ له [الإكثار مِن] الاقتداء بعباد الله الصالحين والأنبياء والمرسلين؛ فإنَّه يرى نفسه مفتقراً [و] مضطرًّا إلى ذلك غاية الاضطرار، {ومن يتولَّ}: عن طاعة الله والتأسِّي برسل الله؛ فلن يضرَّ إلاَّ نفسه، ولا يضرُّ الله شيئاً، {فإنَّ الله هو الغنيُّ}: الذي له الغنى التامُّ المطلقُ من جميع الوجوه؛ فلا يحتاج إلى أحدٍ من خلقه بوجه. {الحميدُ}: في ذاته [وأسمائه] وصفاته وأفعاله؛ فإنَّه محمود على ذلك كله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔