اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ غصے ہو گیا، جو آخرت سے اسی طرح ناامید ہو چکے ہیں جس طرح وہ کافر ناامید ہو چکے ہیں جو قبروں والے ہیں۔
En
مومنو! ان لوگوں سے جن پر خدا غصے ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اُٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت (کے آنے) کی امید نہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اے مومنو! اگر تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو، اس کی رضا کی اتباع کرتے ہو اور اس کی ناراضی سے دور رہتے ہو تو ﴿ لَاتَتَوَلَّوْاقَوْمًاغَضِبَاللّٰهُعَلَیْهِمْ﴾”ان لوگوں سے دوستی نہ کرو، جن پر اللہ ناراض ہوا ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ محض ان کے کفر کی وجہ سے ان پر ناراض ہے اور یہ کفر کی تمام اصناف کو شامل ہے۔ ﴿ قَدْیَىِٕسُوْامِنَالْاٰخِرَةِ﴾”وہ آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں۔“ یعنی انھیں آخرت کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا، اس لیے آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہ ہو گا۔ اس لیے تم ان کو دوست بنانے سے بچو ورنہ تم بھی ان کے شر اور شرک کی موافقت کرنے لگو گے اور اس طرح تم بھی آخرت کی بھلائی سے محروم ہو جاؤ گے، جیسے وہ محروم ہو گئے۔
﴿ كَمَایَىِٕسَالْكُفَّارُمِنْاَصْحٰؔبِالْقُبُوْرِ﴾”جس طرح کا فروں کو مردوں (کے جی اٹھنے) کی امید نہیں۔“ یعنی جب وہ آخرت کے گھر کو جائیں گے، وہاں حقیقتِ امر کا مشاہدہ کریں گے اور انھیں علم الیقین حاصل ہو گا کہ آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ وہ آخرت سے مایوس ہو گئے ہیں یعنی انھوں نے آخرت کا انکار اور اس کے ساتھ کفر کیا ہے۔ تب ان سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کاموں اور اس کے عذاب کی موجبات کا اقدام کریں اور ان کا آخرت سے مایوس ہونا ایسے ہی ہے جیسے قیامت کا انکار کرنے والے کفار دنیا میں اصحاب قبور کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے سے مایوس ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: يا أيُّها المؤمنون إن كنتُم مؤمنين بربِّكم، ومتَّبعين لرضاه، ومجانبين لسخطه، {لا تَتَوَلَّوا قوماً غضب الله عليهم}: وإنَّما غضب عليهم لكفرهم، وهذا شاملٌ لجميع أصناف الكفار، {قد يَئِسوا من الآخرةِ}؛ أي: قد حُرِموا من خير الآخرة، فليس لهم منها نصيبٌ؛ فاحذروا أن تَتَوَلَّوهم فتوافقوهم على شرِّهم وشركهم ، فتُحرموا خير الآخرة كما حُرِمُوا. وقوله: {كما يئِس الكفَّار من أصحاب القبور}: حين أفضوا إلى الدار الآخرة، وشاهدوا حقيقة الأمر، وعلموا علم اليقين أنَّهم لا نصيب لهم منها.
ويُحتمل أنَّ المعنى: قد يئسوا من الآخرة؛ أي: قد أنكروها وكفروا بها؛ فلا يُسْتَغربُ حينئذٍ منهم الإقدام على مساخط الله وموجباتِ عذابِه، وإياسهم من الآخرة كما يئس الكفارُ المنكرون للبعث في الدُّنيا من رجوع أصحاب القبور إلى الله تعالى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔