اے نبی! جب تیرے پاس مومن عورتیں آئیں، تجھ سے بیعت کرتی ہوں کہ وہ نہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ کوئی بہتان لائیں گی جو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان گھڑ رہی ہوں اور نہ کسی نیک کام میں تیری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کر۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اے پیغمبر! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ شرک کریں گی نہ چوری کریں گی نہ بدکاری کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
اے پیغمبر! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ وه اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا کاری نہ کریں گی، اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالیں گی اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کریمہ میں مذکورہ شرائط ”عورتوں کی بیعت“ کے نام سے موسوم ہیں، جو ان مشترکہ واجبات کی ادائیگی پر بیعت کرتی تھیں، جو تمام اوقات میں مردوں اور عورتوں پر واجب ہیں، رہے مرد تو ان پر ان کے احوال و مراتب کے مطابق جو واجبات ان پر لازم آتے اور متعین ہوتے ہیں، ان میں تفاوت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکم دیتا تھا آپ اس کو بجا لاتے تھے، جب عورتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کی درخواست کرتیں اور ان مذکورہ شرائط کا التزام کرتیں تو آپ ان سے بیعت لے لیا کرتے تھے، آپ ان کی دل جوئی کرتے اور ان امور میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بخشش طلب کرتے جن میں ان سے کوتاہی واقع ہوتی، اور انھیں جملہ مومنین میں ان شرائط کے ساتھ شامل کرتے کہ ﴿ لَّایُشْرِكْ٘نَبِاللّٰهِشَیْـًٔؔا﴾” وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔“ بلکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق سمجھیں گی ﴿ وَلَایَقْتُلْ٘نَاَوْلَادَهُنَّ ﴾”اور وہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔“ جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں جاہل عورتوں سے اپنی بیٹیوں کو ”زندہ درگور“ کرنا صادر ہوتا تھا۔ ﴿وَلَایَزْنِیْنَ ﴾”اور وہ زنا نہیں کریں گی۔“ جیسا کہ غیر مردوں سے یاری دوستی رکھنے والی عورتوں میں یہ فعل کثرت سے موجود تھا ﴿ وَلَایَ٘اْتِیْنَبِبُهْتَانٍیَّفْتَرِیْنَهٗبَیْنَاَیْدِیْهِنَّوَاَرْجُلِهِنَّ﴾”اور کوئی ایسا بہتان نہ لگائیں گی جو خود اپنے ہاتھوں اور پیروں کے سامنے گھڑ لیں۔“ بہتان سے مراد غیر پر افترا پردازی ہے، یعنی وہ کسی بھی حالت میں افترا پردازی نہیں کریں گی، خواہ اس کا تعلق خود اپنے اور اپنے شوہر کے ساتھ ہو یا شوہر کے علاوہ دوسرے کے ساتھ ہو۔ ﴿ وَلَایَعْصِیْنَكَفِیْمَعْرُوْفٍ﴾ یعنی کسی بھی معاملے میں جس کا آپ حکم دیں، وہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی، کیونکہ آپ کا حکم معروف کے مطابق (نیک) ہی ہو گا، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نوحہ کرنے، گریبان چاک کرنے، چہرہ نوچنے اور جاہلیت کی آواز نکالنے کی ممانعت میں آپ کی اطاعت کریں گی۔ ﴿ فَبَایِعْهُنَّ﴾ جب وہ مذکورہ احکام کی تعمیل کا التزام کریں، تو ان سے بیعت لیجیے ﴿وَاسْتَغْفِرْلَ٘هُنَّاللّٰهَ﴾ اور ان کی دل جمعی کے لیے ان کی تقصیر کی اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّاللّٰهَغَفُوْرٌ﴾ یعنی وہ نافرمانوں کو بہت کثرت سے بخشنے والا، اور گناہ گار تائبین پر احسان کرنے والا ہے۔ ﴿ رَّحِیْمٌ﴾ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں اور اس کا احسان تمام مخلوقات کو شامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الشروط المذكورة في هذه الآية تسمَّى مبايعة النساء، اللاتي كنَّ يبايِعْنَّ على إقامة الواجبات المشتركة التي تجب على الذُّكور والنساء في جميع الأوقات، وأما الرجال؛ فيتفاوتُ ما يلزمُهم بحسب أحوالهم ومراتبهم وما يتعيَّن عليهم، فكان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يمتثل ما أمره الله [به]، فكان إذا جاءته النساءُ يبايِعْنَه والتزمن بهذه الشروط؛ بايَعَهُنَّ وجَبَرَ قلوبَهُنَّ، واستغفر لهنَّ الله فيما يحصل منهنَّ من التقصير وأدخلهنَّ في جملة المؤمنين، {على أن لا يُشْرِكنَ بالله شيئاً}: بل يفرِدْنَ الله وحده بالعبادة، {ولا يَقْتُلْنَ أولادهنَّ}: كما يجري لنساء الجاهليَّة الجهلاء، {ولا يَزْنينَ}: كما كان ذلك موجوداً كثيراً في البغايا وذوات الأخدان، {ولا يأتين ببُهتانٍ يفترينَه بين أيديهنَّ وأرجُلهنَّ}: والبهتان الافتراء على الغير؛ أي: لا يفترين بكلِّ حالة، سواءً أتعلَّقت بهنَّ مع أزواجهنَّ أو تعلَّق ذلك بغيرهم، {ولا يَعْصينَكَ في معروفٍ}؛ أي: لا يعصينك في كلِّ أمرٍ تأمرهنَّ به؛ لأنَّ أمرك لا يكون إلاَّ بمعروفٍ، ومن ذلك طاعتهنَّ لك في النهي عن النياحة وشقِّ الجيوب وخمش الوجوه والدُّعاء بدعوى الجاهلية، {فبايِعْهُنَّ}: إذا التزمنَ بجميع ما ذُكِر، {واستَغْفِرْ لهنَّ اللهَ}: عن تقصيرهنَّ وتطييباً لخواطرهنَّ. {إنَّ الله غفورٌ}؛ أي: كثير المغفرة للعاصين والإحسان إلى المذنبين التائبين. {رحيمٌ}: وسعت رحمتُه كلَّ شيءٍ وعمَّ إحسانُه البَرايا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔