ترجمہ و تفسیر — سورۃ الممتحنة (60) — آیت 13

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ قَدۡ یَئِسُوۡا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الۡکُفَّارُ مِنۡ اَصۡحٰبِ الۡقُبُوۡرِ ﴿٪۱۳﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ غصے ہو گیا، جو آخرت سے اسی طرح ناامید ہو چکے ہیں جس طرح وہ کافر ناامید ہو چکے ہیں جو قبروں والے ہیں۔ En
مومنو! ان لوگوں سے جن پر خدا غصے ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اُٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت (کے آنے) کی امید نہیں
En
اے مسلمانو! تم اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے جو آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں جیسے کہ مرده اہل قبر سے کافر ناامید ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ:} سورت کے شروع میں { لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ } میں مشرکین کی دوستی سے منع فرمایا تھا، آخر میں یہود کی دوستی سے منع فرمایا۔ قرآن مجید میں {مغضوب عليهم} عموماً یہود کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ فاتحہ میں { غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ } کی تفسیر۔
➋ {قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ:} اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ { مِنْ } بیانیہ ہے اور { اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ الْكُفَّارُ } کا بیان ہے۔ یعنی ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہو گیا، (کیونکہ انھوں نے حق کو جانتے ہوئے اور یہ پہچانتے ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی ہیں، آپ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا، اس لیے) وہ آخرت (کی ہر خیر) سے نا امید ہو چکے، جس طرح وہ کافر آخرت (کی ہر خیر) سے ناامید ہو چکے جو قبروں والوں میں سے ہیں، یعنی وہ کافر جو فوت ہو چکے اور اپنی آنکھوں سے اپنے عذاب کو دیکھ کر ہر خیر سے مایوس ہو چکے، ان کی طرح یہ یہودی بھی جان بوجھ کر حق کو جھٹلانے کی وجہ سے آخرت (کی ہر بھلائی) سے مایوس ہیں، سو انھیں دوست مت بناؤ۔ متن میں ترجمہ اسی مفہوم کے مطابق کیا گیا ہے اور طبری نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ { مِنْ } ابتدائیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ تعالیٰ غصے ہوا، جو آخرت کے واقع ہونے سے اسی طرح ناامید ہیں جس طرح کفار قبروں والوں کے واپس آنے سے ناامید ہو چکے ہیں۔ یہ دونوں تفسیریں درست ہیں۔
➌ بعض اہلِ علم نے {مغضوب عليهم} کو عام رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ جس طرح { عَدُوِّيْ وَ عَدُوَّكُمْ } کے الفاظ عام ہیں، اسی طرح {مغضوب عليهم} کے الفاظ بھی عام ہیں، ان میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین و منافقین سبھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے سبھی کی دوستی سے منع فرمایا ہے اور ان سب پر اللہ کا غضب بھی ہے۔ سبھی آخرت میں کسی بھی خیر کی توقع سے محروم ہیں اور سب کافر اس بات سے بھی ناامید ہو چکے ہیں کہ مرنے والے ان کے پاس دوبارہ آئیں گے۔ قرآن مجید میں یہود کے علاوہ دوسرے کفار کے لیے بھی غضب کا لفظ آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۷۱)، نحل (۱۰۶)، شوریٰ (۱۶) اور سورۂ فتح (۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13۔ 1 اس سے بعض یہود، بعض منافقین اور بعض نے تمام کافر مراد لئے ہیں۔ یہ آخری قول ہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اس میں یہود و منافقین بھی آجاتے ہیں، علاوہ ازیں سارے کفار ہی غضب الٰہی کے مستحق ہیں، اس لئے مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی کافر سے دوستانہ تعلق مت رکھو، جیسا کہ یہ مضمون قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ 13۔ 2 آخرت سے مایوس ہونے کا مطلب، قیامت کے برپا ہونے سے انکار ہے۔ ایک دوسرے معنی اس کے یہ کئے گئے ہیں کہ قبروں میں مدفون کافر، ہر قسم کی خیر سے مایوس ہوگئے۔ کیونکہ مر کر انہوں نے اپنے کفر کا انجام دیکھ لیا، اب وہ خیر کی کیا توقع کرسکتے ہیں (ابن جریر طبری)۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اے ایمان والو! ایسے لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ کا غضب [30] ہوا، وہ تو آخرت سے ایسے ہی مایوس ہیں جیسے کافر اہل قبور [31] سے مایوس ہیں۔
[30] سورۃ کے آخر میں ایک دفعہ پھر تاکید مزید کے طور پر اسی بات کو دہرایا گیا ہے کہ معاند قسم کے کافر کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ان سے دوستی کی پینگیں مت بڑھاؤ۔ نہ ہی ان پر اعتماد کرو۔ جن پر اللہ ناراض ہے۔ اللہ کے دوستوں کو ان سے ناراض ہی رہنا چاہئے۔
[31] اصحاب قبور سے کافروں کی مایوسی کی مختلف توجیہات :۔
اس جملہ کے دو مختلف مطلب صحابہ سے منقول ہیں۔ ایک یہ کہ کافروں کا نہ آخرت پر ایمان ہے، نہ ہی قبروں سے مردوں کے دوبارہ جی اٹھنے پر۔ وہ آخرت میں جزاء و سزائے اعمال کی ویسے ہی توقع نہیں رکھتے جیسے مردوں کے قبروں سے جی اٹھنے کی توقع نہیں رکھتے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کافر قبروں میں پہنچ چکے ہیں حقیقت حال ان کے سامنے کھل کر آچکی ہے اور آخرت میں اللہ کی رحمت اور مہربانی سے ایسے ہی مایوس ہو چکے ہیں۔ جیسے کہ یہ کافر آخرت کے قیام سے ہی مایوس ہیں۔ یہ دونوں مطلب درست ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ بعض لوگوں نے، جو قبروں میں پڑے ہوئے اولیاء اللہ کے تصرفات کے قائل ہیں، ایک تیسرا مطلب بھی کشید کر لیا ہے جو یہ ہے کہ اہل قبور کے تصرفات سے جو لوگ مایوس ہیں اور اس بات کا یقین نہیں رکھتے وہ کافر ہیں۔ گویا اہل قبور کے تصرفات کو تسلیم نہ کرنا کافروں کا کام ہے۔ ﴿نعوذ بالله من شرور انفسا﴾

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفار سے دلی دوستی کی ممانعت ٭٭
اس سورت کی ابتداء میں جو حکم تھا وہی انتہا میں بیان ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے جن پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اتر چکی ہے اور اللہ کی رحمت اور اس کی شفاعت سے دور ہو چکے ہیں تم ان سے دوستانہ اور میل ملاپ نہ رکھو، وہ آخرت کے ثواب سے اور وہاں کی نعمتوں سے ایسے ناامید ہو چکے ہیں جیسے قبروں والے کافر، اس پچھلے جملے کے دو معنی کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ جیسے زندہ کافر اپنے مردہ کافروں کے دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہو چکے ہیں، دوسرے یہ کہ جس طرح مردہ کافر ہر بھلائی سے ناامید ہو چکے ہیں وہ مر کر آخرت کے احوال دیکھ چکے اور اب انہیں کسی قسم کی بھلائی کی توقع نہیں رہی۔
«الحمداللہ» سورۃ الممتحنہ کی تفسیر ختم ہوئی۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اے مومنو! اگر تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو، اس کی رضا کی اتباع کرتے ہو اور اس کی ناراضی سے دور رہتے ہو تو ﴿ لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ان لوگوں سے دوستی نہ کرو، جن پر اللہ ناراض ہوا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ محض ان کے کفر کی وجہ سے ان پر ناراض ہے اور یہ کفر کی تمام اصناف کو شامل ہے۔ ﴿ قَدْ یَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ وہ آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں۔ یعنی انھیں آخرت کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا، اس لیے آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہ ہو گا۔ اس لیے تم ان کو دوست بنانے سے بچو ورنہ تم بھی ان کے شر اور شرک کی موافقت کرنے لگو گے اور اس طرح تم بھی آخرت کی بھلائی سے محروم ہو جاؤ گے، جیسے وہ محروم ہو گئے۔
﴿ كَمَا یَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰؔبِ الْقُبُوْرِ جس طرح کا فروں کو مردوں (کے جی اٹھنے) کی امید نہیں۔ یعنی جب وہ آخرت کے گھر کو جائیں گے، وہاں حقیقتِ امر کا مشاہدہ کریں گے اور انھیں علم الیقین حاصل ہو گا کہ آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ وہ آخرت سے مایوس ہو گئے ہیں یعنی انھوں نے آخرت کا انکار اور اس کے ساتھ کفر کیا ہے۔ تب ان سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کاموں اور اس کے عذاب کی موجبات کا اقدام کریں اور ان کا آخرت سے مایوس ہونا ایسے ہی ہے جیسے قیامت کا انکار کرنے والے کفار دنیا میں اصحاب قبور کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے سے مایوس ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يا أيُّها المؤمنون إن كنتُم مؤمنين بربِّكم، ومتَّبعين لرضاه، ومجانبين لسخطه، {لا تَتَوَلَّوا قوماً غضب الله عليهم}: وإنَّما غضب عليهم لكفرهم، وهذا شاملٌ لجميع أصناف الكفار، {قد يَئِسوا من الآخرةِ}؛ أي: قد حُرِموا من خير الآخرة، فليس لهم منها نصيبٌ؛ فاحذروا أن تَتَوَلَّوهم فتوافقوهم على شرِّهم وشركهم ، فتُحرموا خير الآخرة كما حُرِمُوا. وقوله: {كما يئِس الكفَّار من أصحاب القبور}: حين أفضوا إلى الدار الآخرة، وشاهدوا حقيقة الأمر، وعلموا علم اليقين أنَّهم لا نصيب لهم منها.

ويُحتمل أنَّ المعنى: قد يئسوا من الآخرة؛ أي: قد أنكروها وكفروا بها؛ فلا يُسْتَغربُ حينئذٍ منهم الإقدام على مساخط الله وموجباتِ عذابِه، وإياسهم من الآخرة كما يئس الكفارُ المنكرون للبعث في الدُّنيا من رجوع أصحاب القبور إلى الله تعالى.