تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 4

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ شَآقُّوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ۚ وَ مَنۡ یُّشَآقِّ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۴﴾
یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ کی مخالفت کرے تو بلاشبہ اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔ En
یہ اس لئے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا کی مخالفت کرے تو خدا سخت عذاب دینے والا ہے
En
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو بھی اللہ کی مخالفت کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی سخت عذاب کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

و {ذلك} لأنَّهم {شاقُّوا اللهَ ورسولَه}: وعادَوْهما وحاربوهما وسعوا في معصيتهما، وهذه سنته وعادته فيمن شاقَّه. {ومن يُشاقِّ اللهَ فإنَّ اللهَ شديدُ العقابِ}.