تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحشر (59) — آیت 3

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمُ الۡجَلَآءَ لَعَذَّبَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا ؕ وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابُ النَّارِ ﴿۳﴾
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا لکھ دیا تھا تو یقینا وہ انھیں دنیا میں سزا دیتا اور ان کے لیے آخرت میں آگ کا عذاب ہے۔ En
اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلاوطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو ان کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا۔ اور آخرت میں تو ان کے لئے آگ کا عذاب (تیار) ہے
En
اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر جلا وطنی کو مقدر نہ کر دیا ہوتا تو یقیناً انہیں دنیا ہی میں عذاب دیتا، اور آخرت میں (تو) ان کے لیے آگ کا عذاب ہے ہی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا: ﴿ وَلَوْلَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَؔ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر تعالى أنَّ هؤلاء اليهود لم يصِبْهم جميع ما يستحقون من العقوبة، وأن الله خفَّف عنهم، فلولا أنه كتبَ عليهم الجلاءَ الذي أصابهم وقضاه عليهم [وقدره] بقدره الذي لا يُبَدَّلُ ولا يُغَيَّرُ؛ لكان لهم شأنٌ آخر من عذاب الدُّنيا ونَكالها، ولكنهم وإن فاتهم العذابُ الشديد الدنيويُّ؛ فإنَّ لهم في الآخرة عذابَ النار الذي لا يمكن أن يعلم شدَّته إلاَّ الله؛ فلا يخطر ببالهم أن عقوبتهم [قد] انقضتْ وفرغتْ ولم يبقَ لهم منها بقيةٌ؛ فما أعدَّ الله لهم من العذابِ في الآخرة أعظم وأطمُّ.