تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب بنونضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا،تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں، تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا ہے، تو ان کو باقی رکھنا ﴿ فَبِـاِذْنِاللّٰهِ﴾ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے ﴿ وَلِیُخْزِیَالْ٘فٰسِقِیْنَ﴾”اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔“ کیونکہ اس نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمھیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بے بسی ظاہر ہو، جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے، جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔(اَللِّینَةُ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما لام بنو النضير رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - والمسلمين في قطع النخيل والأشجار، وزعموا أن ذلك من الفساد وتوصلوا بذلك إلى الطعن بالمسلمين، أخبر تعالى أنَّ قطع النخيل إن قطعوه أو إبقاءهم إيَّاه إن أبْقَوْه؛ أنه بإذنه [تعالى] وأمره، {ولِيُخْزِيَ الفاسقين}: حيث سلَّطكم على قطع نخلهم وتحريقها؛ ليكون ذلك نكالاً لهم وخزياً في الدُّنيا وذلًّا يُعرف به عجزُهم التامُّ الذي ما قدروا على استنقاذ نخلهم الذي هو مادة قوتهم. واللِّينة تشمل سائرَ النخيل على أصحِّ الاحتمالات وأولاها؛ فهذه حال بني النضير وكيف عاقبهم الله [تعالى] في الدُّنيا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔