(آیت 4) {ذٰلِكَبِاَنَّهُمْشَآقُّوااللّٰهَوَرَسُوْلَهٗ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۱۳) کی تفسیر۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں {”وَمَنْيُّشَآقِّاللّٰهَ“} کے بعد {”وَرَسُوْلَهُ“} کو حذف کر دیا ہے، اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ رسول کی مخالفت اللہ تعالیٰ ہی کی مخالفت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ کی مخالفت کرے تو اللہ (انہیں) سزا دینے میں بہت سخت ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ذٰلِکَبِاَنَّہُمْشَآقُّوااللّٰهَوَرَسُوْلَهٗ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنْیُّشَآقِّاللّٰهَفَاِنَّاللّٰهَشَدِیْدُالْعِقَابِ﴾”اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
و {ذلك} لأنَّهم {شاقُّوا اللهَ ورسولَه}: وعادَوْهما وحاربوهما وسعوا في معصيتهما، وهذه سنته وعادته فيمن شاقَّه. {ومن يُشاقِّ اللهَ فإنَّ اللهَ شديدُ العقابِ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔