تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَ٘نْتُغْنِیَعَنْهُمْاَمْوَالُهُمْوَلَاۤاَوْلَادُهُمْمِّنَاللّٰهِشَیْـًٔؔا﴾”ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔“ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَاَصْحٰؔبُالنَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمْفِیْهَاخٰؔلِدُوْنَ﴾”وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لن تُغْنِيَ عنهم أموالُهم ولا أولادُهم من الله شيئاً}؛ أي: لا تَدْفَعُ عنهم شيئاً من العذاب، ولا تحصِّلُ لهم قسطاً من الثواب، {أولئك أصحابُ النار}: الملازمون لها، الذين لا يخرُجون عنها، و {هم فيها خالدون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔