ترجمہ و تفسیر — سورۃ المجادلة (58) — آیت 17

لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۷﴾
ان کے اموال اللہ کے مقابلے میں ہرگز ان کے کسی کام نہ آئیں گے اور نہ ہی ان کی اولاد۔ یہ لوگ آگ میں رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
خدا کے (عذاب کے) سامنے نہ تو ان کا مال ہی کچھ کام آئے گا اور نہ اولاد ہی (کچھ فائدہ دے گی) ۔ یہ لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے
En
ان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یہ تو جہنمی ہیں ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) {لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ …:} نفاق کا بڑا باعث مال و اولاد کی محبت ہے، اس لیے فرمایا قیامت کے دن یہ اموال و اولاد ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (117،116)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ اللہ کے سامنے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَ٘نْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْـًٔؔا ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰؔبُ النَّارِ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمْ فِیْهَا خٰؔلِدُوْنَ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لن تُغْنِيَ عنهم أموالُهم ولا أولادُهم من الله شيئاً}؛ أي: لا تَدْفَعُ عنهم شيئاً من العذاب، ولا تحصِّلُ لهم قسطاً من الثواب، {أولئك أصحابُ النار}: الملازمون لها، الذين لا يخرُجون عنها، و {هم فيها خالدون}.