جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں ۔
En
جس دن خدا ان سب کو جلا اٹھائے گا تو جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے (اسی طرح) خدا کے سامنے قسمیں کھائیں گے اور خیال کریں گے کہ (ایسا کرنے سے) کام لے نکلے ہیں۔ دیکھو یہ جھوٹے (اور برسر غلط) ہیں
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اللہ تعالیٰ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے اور سمجھیں گے کہ وه بھی کسی (دلیل) پر ہیں، یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن عاش على شيءٍ؛ مات عليه؛ فكما أنَّ المنافقين في الدُّنيا يموِّهون على المؤمنين ويحلفون لهم أنَّهم مؤمنون، فإذا كان يوم القيامةِ وبعثَهُم الله جميعاً؛ حلفوا لله كما حلفوا للمؤمنين، ويحسبون في حلفهم هذا {أنَّهم على شيءٍ}: لأنَّ كفرهم ونفاقهم وعقائدهم الباطلة لم تَزَلْ تَرْسخُ في أذهانهم شيئاً فشيئاً، حتى غرَّتهم وظنُّوا أنَّهم على شيءٍ يعتدُّ به ويعلَّقُ عليه الثواب، وهم كاذبون في ذلك، ومن المعلوم أن الكذِبَ لا يروجُ على عالم الغيب والشهادة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔