تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 16

اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۶﴾
انھوں نے اپنی قسموں کو ایک طرح کی ڈھال بنا لیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا، سو ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ En
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے
En
ان لوگوں نے تو اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کی راه سے روکتے ہیں ان کے لیے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِتَّؔخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{اتَّخذوا أيمانَهم جُنَّةً}؛ أي: ترساً ووقايةً يتَّقون بها من لوم الله ورسوله والمؤمنين، فبسبب ذلك صدُّوا أنفسهم وغيرهم عن سبيل الله، وهو الصراط الذي مَن سَلَكَه؛ أفضى به إلى جنات النعيم، ومن صدَّ عنه؛ فليس إلاَّ الصراط الموصل إلى الجحيم، {فلهم عذابٌ مهينٌ}: حيث استَكْبَروا عن الإيمان بالله والانقياد لآياته؛ أهانهم بالعذاب السرمديِّ الذي لا يُفَتَّر عنهم ساعةً ولا هم يُنْظَرونَ.