تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 11

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَکُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِی الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا یَفۡسَحِ اللّٰہُ لَکُمۡ ۚ وَ اِذَا قِیۡلَ انۡشُزُوۡا فَانۡشُزُوۡا یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾
اے لوگوجو ایمان لائے ہو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل جاؤ تو کھل جاؤ، اللہ تمھارے لیے فراخی کر دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ، اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔ En
مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو۔ خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
En
اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو اللہ تمہیں کشادگی دے گا، اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو تم اٹھ کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا، اور اللہ تعالیٰ (ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ادب کی تعلیم ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ یا آنے والے دیگر لوگ مجلس میں کشادگی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، پس یہ آداب مجلس کا حصہ ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مجلس میں کشادگی پیدا کریں، یہ چیز کشادگی کرنے والے کو کوئی نقصان نہیں دیتی، لہٰذا اس کو ضرر لاحق ہوئے بغیر اس کے بھائی کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے، اس لیے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے کشادگی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی پیدا کر دیتا ہے، جو کوئی اپنے بھائی کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَاِذَا قِیْلَ انْ٘شُ٘زُوْا جب کسی ضرورت کے تحت یہ کہا جائے کہ اٹھ جاؤ اور اپنی مجالس کو چھوڑ دو ﴿ فَانْ٘شُ٘زُوْا تو اس مصلحت کے حصول کی خاطر فوراً اٹھ جایا کرو۔ کیونکہ اس قسم کے معاملات کا لحاظ رکھنا، علم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل علم و ایمان کے، ان کے علم و ایمان کے مطابق درجات بلند کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ اور اللہ تعالیٰ ہر اس عمل سے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار ہے۔ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو ان کے عمل کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔اس آیت کریمہ میں علم کی فضیلت کا اثبات ہے، نیز یہ کہ علم کی زینت اور اس کا ثمرہ اس کے آداب کو اختیار کرنا اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا أدبٌ من الله لعباده [المؤمنين] إذا اجتمعوا في مجلس من مجالس مجتمعاتهم، واحتاجَ بعضُهم أو بعضُ القادمين [عليهم] للتفسُّح له في المجلس؛ فإنَّ من الأدب أن يَفْسَحوا له؛ تحصيلاً لهذا المقصود، وليس ذلك بضارٍّ للفاسح شيئاً، فيحصلُ مقصود أخيه من غير ضررٍ يلحقه، والجزاء من جنس العمل؛ فإنَّ من فَسَحَ؛ فَسَحَ الله له، ومن وسَّع لأخيه؛ وسَّع الله عليه، {وإذا قيل انشُزوا}؛ أي: ارتفعوا وتَنَحَّوْا عن مجالسكم لحاجةٍ تعرِضُ، {فانشُزوا}؛ أي: فبادروا للقيام لتحصيل تلك المصلحة؛ فإنَّ القيام بمثل هذه الأمور من العلم والإيمان، والله تعالى يرفع أهل العلم والإيمان درجاتٍ بحسب ما خصَّهم [اللَّه] به من العلم والإيمان. {والله بما تعملونَ خبيرٌ}: فيجازي كلَّ عامل بعمله؛ إن خيراً فخيرٌ، وإن شرًّا فشرٌّ. وفي هذه الآية فضيلة العلم، وأنَّ زينته وثمرتَه التأدُّب بآدابه والعمل بمقتضاه.