تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المجادلة (58) — آیت 12

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَیۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقَۃً ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو، یہ تمھارے لیے زیادہ اچھا اور زیادہ پاکیزہ ہے، پھر اگر نہ پاؤ تو یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
مومنو! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اگر خیرات تم کو میسر نہ آئے تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کی تادیب و تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے ان کو حکم دیتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیا کریں کیونکہ یہ تعظیم، اہل ایمان کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے یعنی ایسا کرنے سے تمھاری بھلائی اور اجر میں اضافہ ہو گا نیز ہر قسم کی گندگی سے طہارت حاصل ہو گی۔ بے فائدہ سرگوشی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام کو ترک کرنا بھی، اسی گندگی میں شمار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ کرنے کا حکم دیا تو یہ چیز اس شخص کی پرکھ کے لیے میزان بن گئی جو علم اور بھلائی کا خواہشمند ہے تو وہ صدقے کی پروا نہیں کرے گا۔جسے بھلائی کی حرص ہے نہ رغبت، اس کا مقصد محض کثرت کلام ہے، پس اس طرح وہ ایسے امر سے باز رہے گاجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرتا ہے، یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو صدقہ دے سکتا ہے۔جس کے پاس صدقہ دینے کے لیے کچھ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اس کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس کو معاف کر دیا اور اس سے نرمی سے کام لیا ہے اور اس شخص کے لیے صدقہ پیش کیے بغیر، جو اس کی قدرت میں نہیں، سرگوشی کرنا مباح ٹھہرا دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى المؤمنين بالصَّدقة أمام مناجاة رسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - تأديباً لهم وتعليماً وتعظيماً للرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّ هذا التعظيم خيرٌ للمؤمنين وأطهر؛ أي: بذلك يكثر خيركم وأجركم، وتحصُلُ لكم الطهارة من الأدناس، التي من جملتها ترك احترام الرسول - صلى الله عليه وسلم - والأدبِ معه بكثرة المناجاة التي لا ثمرةَ تحتها؛ فإنَّه إذا أمر بالصدقة بين يدي مناجاتِهِ؛ صار هذا ميزاناً لمن كان حريصاً على العلم والخير ؛ فلا يُبالي بالصدقة، ومَنْ لم يكن له حرصٌ ولا رغبةٌ في الخير، وإنَّما مقصودُه مجرَّدُ كثرة الكلام، فينكفُّ بذلك عن الذي يشقُّ على الرسول، هذا في الواجد للصدقة، وأما الذي لا يجد الصدقة؛ فإنَّ الله لم يضيِّقْ عليه الأمر، بل عفا عنه وسامَحَه وأباح له المناجاة بدون تقديم صدقةٍ لا يقدِرُ عليها.