یہ سرگوشی تو شیطان ہی کی طرف سے ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو غم میں مبتلا کر ے جو ایمان لائے، حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر انھیں ہرگز کوئی نقصان پہنچانے والا نہیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔
En
کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) کہ مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنو کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسہ رکھیں
(بری) سرگوشیاں، پس شیطانی کام ہے جس سے ایمان داروں کو رنج پہنچے۔ گو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وه انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور ایمان والوں کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّمَاالنَّجْوٰى﴾ یعنی مومنوں کے دشمن ان کے بارے میں سازش، دھوکے اور بری خواہشات کی جو سرگوشیاں کرتے ہیں ﴿مِنَالشَّیْطٰنِ﴾یہ شیطان کی طرف سے ہیں، جس کی چال بہت کمزور اور مکر غیر مفید ہے۔ ﴿ وَلَ٘یْسَبِضَآرِّهِمْشَیْـًٔؔااِلَّابِـاِذْنِاللّٰهِ﴾”اور اللہ کے حکم کے بغیر ان سے انھیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ کفایت اور دشمن کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے:﴿ وَلَایَحِیْقُالْمَؔكْرُالسَّیِّئُاِلَّابِاَهْلِهٖ٘﴾ (فاطر:35-43) ”اور بری چال کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔“ پس اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے دشمن جب کبھی (اہل ایمان کے خلاف) سازش کرتے ہیں تو اس کا ضرر انھی کی طرف لوٹتا ہے، اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا سوائے کسی ایسے ضرر کے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿ وَعَلَىاللّٰهِفَلْیَتَوَؔكَّلِالْمُؤْمِنُوْنَ﴾ یعنی مومن اسی پر اعتماد کریں اور اس کے وعدے پر بھروسہ کریں، کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں،نیز اس کے دین و دنیا کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {إنَّما النَّجوى}؛ أي: تناجي أعداء المؤمنين بالمؤمنين بالمكرِ والخديعة وطلب السوءِ من الشيطان الذي كيدُهُ ضعيفٌ، [ومكره غير مفيد] {ليحزنَ الذين آمنوا}: هذا غايةُ هذا المكر ومقصوده، {وليس بضارِّهم شيئاً إلاَّ بإذنِ الله}: فإنَّ الله [تعالى] وَعَدَ المؤمنين بالكفاية والنصر على الأعداء، وقال تعالى: {ولا يَحيقُ المكرُ السيِّئُ إلاَّ بأهلِهِ}: فأعداء الله ورسوله والمؤمنين مهما تَناجَوْا ومَكَروا؛ فإنَّ ضَرَرَ ذلك عائدٌ إلى أنفسهم ، ولا يضرُّ المؤمنين إلاَّ شيءٌ قدَّره الله وقضاه. {وعلى الله فَلْيَتَوَكَّلِ المؤمنون}؛ أي: ليعتمدوا عليه ويَثِقوا بوعده؛ فإنَّ مَن تَوَكَّلَ على الله؛ كَفاه وكَفاه أمرَ دينِهِ ودُنياه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔