اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، وہ تمھیں اپنی رحمت سے دوہرا حصہ دے گا اور تمھارے لیے ایسی روشنی کر دے گا جس کے ذریعے تم چلتے رہو گے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
مومنو! خدا سے ڈرو اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے لئے روشنی کردے گا جس میں چلو گے اور تم کو بخش دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناه بھی معاف فرمادے گا، اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ یہ خطاب ان اہل کتاب سے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے تقاضے پر عمل کریں۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اس کی نافرمانی کو چھوڑ دیں اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں، اگر وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا: ﴿ كِفْلَیْ٘نِمِنْرَّحْمَتِهٖ﴾”اپنی رحمت سے دو گنا اجر۔“ یعنی ان کے اجر کے دو حصے ہیں: ایک حصہ ان کے سابق رسولوں پر ایمان لانے کے بدلے میں اور دوسرا حصہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بدلے میں۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب داخل ہیں اور یہی ظاہر ہے، نیز اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان اور تقویٰ کا حکم دیا ہے جس میں دین کا تمام ظاہر و باطن اور اصول و فروع داخل ہے اور اگر وہ اس عظیم حکم کی تعمیل کریں گے ﴿ كِفْلَیْ٘نِمِنْرَّحْمَتِهٖ﴾ تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں دو گنا اجر عطا کرے گا جس کی مقدار اور وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے مراد یا تو ایمان لانے پر اجر اور تقویٰ اختیار کرنے پر اجر ہے یا اوامر کی تعمیل پر اجر اور نواہی سے اجتناب کرنے پر اجر ہے یا تثنیہ سے مراد یکے بعد دیگر عطائے ثواب میں تکرار ہے۔
﴿ وَیَجْعَلْلَّـكُمْنُوْرًاتَمْشُوْنَبِهٖ ﴾ یعنی وہ تمھیں علم، ہدایت اور روشنی عطا کرے گا، جس کی مدد سے تم جہالت کی تاریکیوں میں چل پھر سکو گے اور وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ﴾ اس ثواب کی یہ کثرت، فضل عظیم مالک کے فضل کے سامنے مستبعد نہیں جس کا فضل و کرم تمام آسمانوں اور زمین والوں پر سایہ کناں ہے، لمحہ بھر یا اس سے بھی کم وقت کے لیے مخلوق سے اس کا فضل و کرم جدا نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الخطابُ يُحتمل أنه خطابٌ لأهل الكتاب، الذين آمنوا بموسى وعيسى عليهما السلام؛ يأمرهم أن يعملوا بمقتضى إيمانهم؛ بأن يتَّقوا الله فيتركوا معاصِيَه ويؤمنوا برسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، وأنَّهم إن فعلوا ذلك؛ أعطاهم الله {كِفْلَيْنِ من رحمتِهِ}؛ أي: نصيبين من الأجر؛ نصيبٍ على إيمانهم بالأنبياء الأقدمين، ونصيبٍ على إيمانهم بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم -. ويُحتمل أن يكون الأمرُ عامًّا؛ يدخل فيه أهلُ الكتابِ وغيرُهم، وهذا الظاهر، وأنَّ الله أمرَهَم بالإيمان والتَّقوى، الذي يدخُلُ فيه جميع الدين ظاهره وباطنه أصوله وفروعه، وأنَّهم إن امتثلوا هذا الأمر العظيم؛ أعطاهم [اللَّه] {كِفْلَيْنِ من رحمتِهِ}؛ لا يعلم قدرهما ولا وصفَهما إلاَّ الله تعالى: أجرٌ على الإيمان وأجرٌ على التقوى، أو أجرٌ على امتثال الأوامر وأجرٌ على اجتناب النَّواهي، أو أنَّ التَّثنية المراد بها تكرار الإيتاء مرةً بعد أخرى. {ويَجْعَل لكم نوراً تمشون به}؛ أي: يعطيكم علماً وهدىً ونوراً تمشون به في ظُلُمات الجهل، ويغفر لكم السيئات، {والله ذو الفضل العظيم}: فلا يُسْتَغْرَبُ كثرةُ هذا الثواب على فضل ذي الفضل العظيم، الذي عمَّ فضلُه أهلَ السماواتِ والأرض؛ فلا يخلو مخلوقٌ من فضله طرفةَ عينٍ ولا أقلَّ من ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔