پھر ہم نے ان کے نقش قدم پر پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل دی اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے اس کی پیروی کی نرمی اور مہربانی رکھ دی اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا مگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے (انھوں نے یہ کام کیا) پھر انھوں نے اس کا خیال نہ رکھا جیسے اس کا خیال رکھنے کا حق تھا، تو ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائے ان کا اجر دے دیا اور ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں۔
En
پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر (اور) پیغمبر بھیجے اور ان کے پیچھے مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔ اور لذات سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا مگر (انہوں نے اپنے خیال میں) خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (آپ ہی ایسا کرلیا تھا) پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیئے تھا نباہ بھی نہ سکے۔ پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں
ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے در پے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کردیا ہاں رہبانیت (ترک دنیا) تو ان لوگوں نے ازخود ایجاد کرلی تھی ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا سوائے اللہ کی رضاجوئی کے۔ سو انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی، پھر بھی ہم نے ان میں سے جو ایمان ﻻئے تھے۔ انہیں ان کا اجر دیا اور ان میں زیاده تر لوگ نافرمان ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّقَفَّیْنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤىاٰثَارِهِمْبِرُسُلِنَاوَقَفَّیْنَابِعِیْسَىابْنِمَرْیَمَ﴾” ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔“ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَیْنٰهُالْاِنْجِیْلَ﴾”اور ہم نے ان کو انجیل دی۔“ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلْنَافِیْقُلُوْبِالَّذِیْنَاتَّبَعُوْهُرَاْفَةًوَّرَحْمَةً﴾”اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّاَشَدَّالنَّاسِعَدَاوَةًلِّلَّذِیْنَاٰمَنُواالْ٘یَهُوْدَوَالَّذِیْنَاَشْرَؔكُوْا١ۚوَلَتَجِدَنَّاَ٘قْ٘رَبَهُمْمَّوَدَّةًلِّلَّذِیْنَاٰمَنُواالَّذِیْنَقَالُوْۤااِنَّانَ٘صٰرٰى١ؕذٰلِكَبِاَنَّمِنْهُمْقِسِّیْسِیْنَوَرُهْبَانًاوَّاَنَّهُمْلَایَسْتَكْبِرُوْنَ۠﴾ (المائدہ: 5/82) ”آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔“ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهْبَانِیَّةَنِابْتَدَعُوْهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَارَعَوْهَاحَقَّرِعَایَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی: اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَیْنَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْامِنْهُمْاَجْرَهُمْ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِیْرٌمِّؔنْهُمْفٰسِقُوْنَ﴾”اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم قَفَّيْنا}؛ أي: أتبعنا {على آثارِهم برُسُلِنا وقفَّيْنا بعيسى ابن مريم}: خصَّ الله عيسى عليه السلام؛ لأنَّ السياق مع النصارى، الذين يزعُمون اتِّباع عيسى، {وآتَيْناه الإنجيل}: الذي هو من كتب الله الفاضلة، {وجَعَلْنا في قلوب الذين اتَّبعوه رأفةً ورحمةً}؛ كما قال تعالى: {لَتَجِدَنَّ أشدَّ الناس عداوةً للذين آمنوا اليهودَ والذين أشركوا ولَتَجِدَنَّ أقرَبَهم مودَّةً للذين آمنوا الذين قالوا إنا نصارى ذلك بأنَّ منهم قِسِّيسينَ ورُهْباناً وأنَّهم لا يستكبرونَ ... } الآيات، ولهذا كان النصارى ألين من غيرهم قلوباً حين كانوا على شريعة عيسى عليه السلام، {ورهبانيةً ابْتَدَعوها}: والرهبانيَّة العبادةُ؛ فهم ابتدعوا من عند أنفسهم عبادةً، ووظَّفوها على أنفسهم، والتزموا لوازم ما كتبها الله عليهم ولا فرضها، بل هم الذين التزموا بها من تلقاء أنفسهم؛ قصْدُهم بذلك رضا الله، ومع ذلك؛ {فما رَعَوْها حقَّ رعايتها}؛ أي: ما قاموا بها، ولا أدَّوْا حقوقها، فقصَّروا من وجهين: من جهة ابتداعهم، ومن جهة عدم قيامهم بما فَرَضوه على أنفسهم. فهذه الحالُ هي الغالبُ من أحوالهم، ومنهم من هو مستقيمٌ على أمر الله، ولهذا قال: {فآتَيْنا الذين آمنوا منهم أجْرَهُم}؛ أي: الذين آمنوا بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - مع إيمانهم بعيسى؛ كلٌّ أعطاه الله على حسب إيمانِهِ، {وكثيرٌ منهم فاسقونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔