تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس تفسیر میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ اپنی جگہ درست ہے، مگر یہاں {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} سے اہلِ کتاب میں سے مسلمان ہونے والے مراد لینا سیاق کے خلاف ہے، کیونکہ شروع سے آخر تک خطاب ان لوگوں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، انھی کو اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرنے اور اللہ کی راہ میں قتال اور خرچ کا حکم آرہا ہے۔ اس آیت میں بھی انھیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے رسول پر کما حقہ ایمان لانے کا حکم اور اس کی جزا کے طور پر اپنی نعمت کا دوہرا حصہ اور نور عظیم عطا کرنے کی بشارت کا ذکر ہے۔ اس لیے صحیح تفسیر ان حضرات کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} کے ساتھ خطاب ان لوگوں سے ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، خواہ وہ اہلِ کتاب میں سے اسلام لائے ہوں یا مشرکین میں سے، یا پیدا ہی اسلام میں ہوئے ہوں، ان سب سے کہا جا رہا ہے کہ صرف زبان سے ایمان کے اقرار اور دعویٰ پر اکتفا نہ کرو، بلکہ سچے دل کے ساتھ ایمان لاؤ، اس کا حق ادا کرو اور اس کے تقاضے پورے کرو، تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا کرے گا۔
اس دوہرے حصے سے مراد ہماری اس امت کی خصوصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے محض اپنے فضل سے پہلی امتوں کی بہ نسبت دوہرے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ایک مثال کے ساتھ واضح فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ، فَقَالَ مَنْ يَّعْمَلُ لِيْ مِنْ غُدْوَةَ إِلٰی نِصْفِ النَّهَارِ عَلٰی قِيْرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُوْدُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِيْ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلٰی صَلاَةِ الْعَصْرِ عَلٰی قِيْرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارٰی، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَّعْمَلُ لِيْ مِنَ الْعَصْرِ إِلَی أَنْ تَغِيْبَ الشَّمْسُ عَلٰی قِيْرَاطَيْنِ؟ فَأَنْتُمْ هُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارٰی، فَقَالُوْا مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلاً، وَأَقَلَّ عَطَاءً؟ قَالَ هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ؟ قَالُوْا لاَ قَالَ فَذٰلِكَ فَضْلِيْ أُوْتِيْهِ مَنْ أَشَاءُ] [بخاري، الإجارۃ، باب الإجارۃ إلٰی نصف النہار: ۲۲۶۸، ۳۴۵۹، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] ”تمھاری مثال اور دونوں کتابوں (تورات و انجیل) والوں کی مثال اس آدمی کی مثال کی طرح ہے جس نے کئی مزدوروں کو اجرت پر رکھا اور کہا: ”کون ہے جو میرے لیے صبح سے نصف النہار تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟“ تو یہود نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: ”کون ہے جو میرے لیے نصف النہار سے عصر تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟“ تو نصاریٰ نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا: ”کون ہے جو میرے لیے عصر سے سورج غروب ہونے تک دو قیراط پر کام کرے گا۔“ تو تم وہ لوگ ہو۔ اس پر یہود و نصاریٰ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: ”ہمیں کیا ہے کہ ہم نے کام زیادہ کیا اور اجرت کم ملی؟“ اس نے کہا: ”کیا میں نے تمھارے حق میں کوئی کمی کی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ اس نے کہا: ”پھر یہ میرا فضل ہے، جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔“
➋ { وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ …:} یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بدولت اللہ تعالیٰ تمھیں کتاب و سنت کی صورت میں وحیٔ الٰہی کا ایسا عظیم نور عطا کرے گا جس کے ذریعے سے تم دنیا و آخرت میں ہر جگہ آسانی کے ساتھ چلتے رہو گے، کسی مسئلے میں تمھیں کوئی الجھن یا اندھیرا پیش نہیں آئے گا، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ» [البقرۃ: ۲۵۷] ”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ اور قیامت کے دن کے اندھیروں میں وہ نور عطا کرے گا جس میں چلتے ہوئے تم جنت تک پہنچ جاؤ گے، جس کا ذکر اس سے پہلے {” يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ “} میں گزرچکا ہے اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ غفور و رحیم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[52] نور سے مراد ایک تو وحی الہٰی اور علم شریعت کی روشنی ہے۔ ایماندار اسی روشنی میں اپنا طرز زندگی متعین کرتے اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور دوسرے وہ نور مراد ہے جو اعمال صالحہ کی بدولت مومنوں کو قیامت کے دن حاصل ہو گا جس کا ذکر اسی سورۃ کی آیت نمبر 12 میں گزر چکا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ { تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں اور وہ شخص جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:97]
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس امت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی [ابن جریر]
اسی مضمون کی ایک آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّـهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [8-الانفال:29] ہے یعنی ’ اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لیے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘
مسند احمد کی حدیث میں ہے { تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟ پس یہود تیار ہو گئے، اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو، اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟ انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔ جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2268]
پھر فرماتا ہے یہ اس لیے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔
غرض یہ ہے کہ کلام عرب میں «لا» صلہ کیلئے آتا ہے جو کلام کے اول آخر میں آ جاتا ہے اور وہاں سے انکار مراد نہیں ہوتا جیسے آیت «مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ» ۱؎ [7-الأعراف:12] میں ہے اور آیت «وَمَا يُشْعِرُكُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:109] میں اور آیت «وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:95] میں۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحدید کی تفسیر ختم ہوئی۔
میرے مہربان اللہ! میرے عاجز ہاتھوں سے اس پاک تفسیر کو پوری کرا، اسے مکمل مطبوع مجھے دکھا دے، مقبولیت عطا فرما اور اس پر ہمیں عمل نصیب فرما۔
اے دلوں کے بھید سے آگاہ اللہ! میری عاجزانہ التماس ہے کہ میرے نامہ اعمال میں اسے ثبت فرما اور میرے تمام گناہوں کا کفارہ اسے کر دے اور اس کے پڑھنے والوں پر رحم فرما اور ان کے دل میں ڈال کہ وہ میرے لیے بھی رحم کی دعا کریں۔
یا رب اپنے سچے دین کی اور اپنے غلاموں کی تائید کر اور اپنے نبی کے کلام کو سب کے کلاموں پر غالب رکھ۔ آمین!
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا الخطابُ يُحتمل أنه خطابٌ لأهل الكتاب، الذين آمنوا بموسى وعيسى عليهما السلام؛ يأمرهم أن يعملوا بمقتضى إيمانهم؛ بأن يتَّقوا الله فيتركوا معاصِيَه ويؤمنوا برسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، وأنَّهم إن فعلوا ذلك؛ أعطاهم الله {كِفْلَيْنِ من رحمتِهِ}؛ أي: نصيبين من الأجر؛ نصيبٍ على إيمانهم بالأنبياء الأقدمين، ونصيبٍ على إيمانهم بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم -. ويُحتمل أن يكون الأمرُ عامًّا؛ يدخل فيه أهلُ الكتابِ وغيرُهم، وهذا الظاهر، وأنَّ الله أمرَهَم بالإيمان والتَّقوى، الذي يدخُلُ فيه جميع الدين ظاهره وباطنه أصوله وفروعه، وأنَّهم إن امتثلوا هذا الأمر العظيم؛ أعطاهم [اللَّه] {كِفْلَيْنِ من رحمتِهِ}؛ لا يعلم قدرهما ولا وصفَهما إلاَّ الله تعالى: أجرٌ على الإيمان وأجرٌ على التقوى، أو أجرٌ على امتثال الأوامر وأجرٌ على اجتناب النَّواهي، أو أنَّ التَّثنية المراد بها تكرار الإيتاء مرةً بعد أخرى. {ويَجْعَل لكم نوراً تمشون به}؛ أي: يعطيكم علماً وهدىً ونوراً تمشون به في ظُلُمات الجهل، ويغفر لكم السيئات، {والله ذو الفضل العظيم}: فلا يُسْتَغْرَبُ كثرةُ هذا الثواب على فضل ذي الفضل العظيم، الذي عمَّ فضلُه أهلَ السماواتِ والأرض؛ فلا يخلو مخلوقٌ من فضله طرفةَ عينٍ ولا أقلَّ من ذلك.