تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحديد (57) — آیت 29

لِّئَلَّا یَعۡلَمَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَلَّا یَقۡدِرُوۡنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ وَ اَنَّ الۡفَضۡلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۲۹﴾
تاکہ کتا ب والے یہ نہ جانیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے اور (جان لیں) کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے اس کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ En
(یہ باتیں) اس لئے (بیان کی گئی ہیں) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل پر کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے۔ اور یہ کہ فضل خدا ہی کے ہاتھ ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
En
یہ اس لیے کہ اہل کتاب جان لیں کہ اللہ کے فضل کے کسی حصہ پر بھی انہیں اختیار نہیں اور یہ کہ (سارا) فضل اللہ ہی کے ہاتھ ہے وه جسے چاہے دے، اور اللہ ہے ہی بڑے فضل واﻻ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ یعنی ہم نے تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے کہ اس شخص کو ہم اپنے فضل و احسان سے نوازتے ہیں جو عمومی ایمان سے بہرہ ور ہوتا ہے، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی تاکہ اہل کتاب کو یہ علم ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی وہ اپنی خواہشات نفس اور عقول فاسدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اس کے فضل سے روک نہیں سکتے، وہ کہتے ہیں: ﴿ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰؔى (البقرہ:2؍111) جنت میں داخل نہیں ہو گا سوائے یہودی اور نصرانی کے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں فاسد آرزوئیں رکھتے ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے علی الرغم ان کے لیے دو گنی رحمت، نور اور مغفرت ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے ﴿ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ جس کے بارے میں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ اسے اپنا فضل عطا کرے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ وہ فضل عظیم کا مالک ہے جس کی مقدار کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {لئلاَّ يعلم أهلُ الكتاب ألاَّ يقدِرونَ على شيءٍ من فضل الله}؛ أي: بيَّنا لكم فضلنا وإحساننا لمن آمن إيماناً عامًّا واتَّقى الله وآمن برسوله؛ لأجل أن يكونَ عند أهل الكتاب علمٌ بأنَّهم لا يقدرونَ على شيءٍ من فضل الله؛ أي: لا يحجُرون على الله بحسب أهوائهم وعقولهم الفاسدة، فيقولون: {لن يدخُلَ الجنَّةَ إلاَّ مَن كان هوداً أو نَصارى}، ويَتَمَنَّوْنَ على الله الأمانيَّ الفاسدةَ، فأخبر الله تعالى [أن] المؤمنين برسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، المتَّقين لله أنَّ لهم كِفْلَيْنِ من رحمته ونوراً ومغفرةً؛ رغماً على أنوف أهل الكتاب، وليعلموا {أنَّ الفضلَ بيد الله يؤتيه من يشاءُ}: ممَّنِ اقتضت حكمتُه تعالى أن يؤتِيَه من فضله، {والله ذو الفضل العظيم}: الذي لا يقادَرُ قدرُه.