تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ قَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ:} عیسیٰ علیہ السلام کا الگ خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب سے آخر میں وہی تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں انجیل عطا فرمائی، جس میں تورات پر عمل کی تاکید تھی اور اس کے بعض سخت احکام میں نرمی کا اعلان تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ» [آل عمران: ۵۰] ”اور تاکہ میں تمھارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کی گئی تھیں۔“ البتہ وہ بھی اسی راستے پر چلنے والے تھے جس پر پہلے رسول چلتے تھے، جس میں جہاد کی تعلیم بھی تھی۔
➌{ وَ جَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً: ” رَاْفَةً “} وہ رحمت جو کسی سے تکلیف یا نقصان دور کرنے سے تعلق رکھتی ہو، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ» [النور: ۲] ”اور تمھیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔“ جبکہ {” رَحْمَةً “} کا لفظ عام ہے، جس میں ہر طرح کا رحم شامل ہے، خصوصاً جس میں نفع پہنچانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ دیکھیے سورۂ حج کی آیت (۶۵): «اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» کی تفسیر۔ عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں رافت و رحمت رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو جو کتاب انجیل عطا فرمائی تھی وہ بنیادی طور پر احکام کی نہیں بلکہ وعظ و تذکیر کی کتاب تھی، جس میں انھیں خاص طور پر نرمی اور رحم کے اخلاق اختیار کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس پر عمل کیا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت پر عمل نے ان میں یہ صفت مزید پختہ کردی، چونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کے فضل سے ہوا، اس لیے فرمایا کہ ہم نے اس کی پیروی کرنے والوں کے دلوں میں رافت و رحمت رکھ دی۔
انجیل میں رافت و رحمت پر زور دینے کی وجہ یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے نفوس کی اصلاح کے لیے اور ان کے دلوں سے اس سختی کو دور کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا جو طویل مدتیں گزرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں پیدا ہو چکی تھی، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً» [البقرۃ: ۷۴] ”پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں جیسے ہیں، یا سختی میں (ان سے بھی) بڑھ کر ہیں۔“ عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب یہود کے برعکس آپس میں نہایت نرم اور مہربان تھے، ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں بھی یہ وصف بہت نمایاں تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ» [الفتح: ۲۹] ” اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“
➍ { وَ رَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوْهَا:”رَهَبَ يَرْهَبُ رَهْبًا “} (ف) ڈرنا۔ {”رَاهِبٌ“} ڈرنے والا۔ {” رَهْبَانٌ “} (بروزن {فَعْلاَنٌ}) بہت ڈرنے والا۔ {” رَهْبَانِيَّةَ “} اس {”رَهْبَانٌ“} کی طرف نسبت ہے، یعنی رہبان کا طریقہ اختیار کرنا، جو شدت خوف سے شادی نہیں کرتا کہ بیوی بچے اس کی عبادت میں رکاوٹ نہ بنیں، لوگوں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے کہ اسے عبادت سے غافل نہ کریں۔ کھانے پینے کی لذیذ اشیاء سے اجتناب کرتا ہے کہ دنیا کی حرص اور نفس کی خواہشوں سے بچ سکے، اس لیے وہ آبادی سے الگ جنگل بیابان میں کٹیا بنا کر عبادت میں مصروف ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ انبیاء کا طریقہ نہیں، نہ انھوں نے اس کی تعلیم دی ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ ان کا طریقہ تو اللہ کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت دینا اور لوہے کے استعمال کے ساتھ اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا قلع قمع کرنا ہے۔ سو جن لوگوں نے ترکِ دنیا کا راستہ اختیار کر کے دعوت و جہاد کا کام چھوڑ دیا، یہ طریقہ ان کی اپنی ایجاد تھی، اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: [لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ الَّذِيْ كَانَ مِنْ تَرْكِ النِّسَاءِ بَعَثَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ! إِنِّيْ لَمْ أُوْمَرْ بِالرَّهْبَانِيَّةِ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِيْ؟ قَالَ لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ إِنَّ مِنْ سُنَّتِيْ أَنْ أُصَلِّيَ وَأَنَامَ، وَأَصُوْمَ وَأَطْعَمَ، وَ أَنْكِحَ وَ أُطَلِّقَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ] [سنن دارمي: 179/2، ح: ۲۱۶۹، قال المحقق حسین سلیم أسد الداراني إسنادہ صحیح و الحدیث متفق علیہ] ”جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے عورتوں کو ترک کرنے والا معاملہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: ”اے عثمان! مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا، کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی اختیار کر لی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں یا رسول اللہ!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے طریقے میں سے یہ ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا (بھی) ہوں اور روزہ رکھتا ہوں اور کھاتا (بھی) ہوں اور میں نکاح بھی کرتاہوں، طلاق بھی دیتا ہوں تو جو شخص میرے طریقے سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھروں کی طرف آئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ جب انھیں (اس کے بارے) بتایا گیا تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے: ”کہاں ہم اور کہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو پہلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں۔“ تو ان میں سے ایک نے کہا: ”میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔“ دوسرے نے کہا: ”میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا۔“ تیسرے نے کہا: ”میں عورتوں سے الگ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: [أَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَ كَذَا؟ أَمَا وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لٰكِنِّيْ أَصُوْمُ وَ أُفْطِرُ، وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ] [بخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح …: ۵۰۶۳] ”تمھی لوگوں نے یہ یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کے تقویٰ والا ہوں، لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو میرے طریقے سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“
➎ { مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ:} یعنی ہم نے انھیں رہبانیت کا حکم نہیں دیا تھا، بلکہ انھوں نے اسے خود ہی ایجاد کر لیا تھا۔
➏ { اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ:} یہ استثنا منقطع ہے اور{” اِلَّا “ ”لٰكِنْ“} کے معنی میں ہے: {”أَيْ مَا كَتَبْنَا هَا عَلَيْهِمْ لٰكِنْ فَعَلُوْهَا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ“} ”یعنی ہم نے انھیں اس کا حکم نہیں دیا، مگر انھوں نے (ترکِ دنیا کا) یہ کام اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا۔“ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے: {” لٰكِنْ كَتَبْنَا عَلَيْهِمُ ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ“} یعنی ہم نے انھیں رہبانیت کا حکم تو نہیں دیا، لیکن ہم نے انھیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کا حکم دیا۔
➐ { فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا:} رہبانیت اختیار کرنے والوں کی دو طرح سے مذمت فرمائی، ایک یہ کہ انھوں نے دین میں وہ بات ایجاد کی جس کا انھیں اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے رہبانیت ایجاد کر کے اپنے آپ پر ترک دنیا کی جو پابندیاں عائد کی تھیں انھیں اس طرح نہ نبھا سکے جس طرح نبھانے کا حق تھا۔ ہمارے شیخ محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”یعنی انھوں نے دو جرم کیے، ایک رہبانیت (درویشی) کو دین کا جزو لاینفک قرار دے لیا اور پھر اس درویشی کے حقوق و آداب کی بھی نگہداشت نہ کر سکے۔ چنانچہ انھوں نے ابتدا میں توحید اور درویشی کو ایک ساتھ نبھانے کی کوشش کی، لیکن مسیح علیہ السلام کے تیسری صدی بعد سے اپنے بادشاہوں کے بہکانے میں آگئے اور تثلیث کے چکر میں پھنس کر توحید کو چھوڑ دیا، پھر درویشی تو درکنار اصل ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ درویشی کو جاہ و ریاست طلبی کا ذریعہ بنا لیا اور باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھانے لگے۔ الغرض جہاد کے فریضہ کو چھوڑ کر تصوف کی رسوم اختیار کرنا ہی رہبانیت ہے، جس کی قرآن نے مذمت کی ہے اور پھر درویشی یا دینی پیشوائی کو (اللہ کی رضا کے بجائے) جاہ و ریاست اور دنیا طلبی کا ذریعہ بنانا تو ناقابل عفو گناہ ہے، جو یہود و نصاریٰ میں عام وبا کی شکل اختیار کر گیا تھا۔“ (اشرف الحواشی)شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں: ”یہ فقیری اور تارکِ دنیا بننا نصاریٰ نے رسم نکالی، جنگل میں تکیہ لگا کر بیٹھتے، نہ بیوی رکھتے نہ اولاد، نہ کماتے نہ جوڑتے، محض عبادت میں رہتے، خلق سے نہ ملتے۔ اللہ نے بندوں پر یہ حکم نہیں رکھا، مگر جب اپنے اوپر نام رکھا ترک دنیا کا، پھر اس پردے میں دنیا چاہنی بڑا وبال ہے۔“ (موضح) آج کل روزانہ اخبارات میں نصرانی چرچوں میں پادریوں اور راہبوں کے زنا اور قومِ لوط کے عمل کی خبریں اسی {” فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا “} کی عملی تفسیر ہیں۔
➑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان {” لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ “} کے مطابق امت مسلمہ میں بھی رہبانیت تصوف کی صورت میں رائج ہوگئی۔ [دیکھیے بخاري: ۳۴۵۶] دنیا میں اسلام کو غالب کرنے اور جہاد کے بجائے ترکِ دنیا کمال ٹھہرا، تو توحید کے بجائے پیر پرستی اور قبر پرستی پھیل گئی۔ احسان کی منزل یہ تھی کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا اسے دیکھ رہا ہے، سو اگر یہ اسے نہیں دیکھتا تو وہ اسے یقینا دیکھ رہا ہے۔ تصوف میں اس کے بجائے کمال یہ ٹھہرا کہ شیخ کا تصور اس طرح رکھو کہ ایک لمحہ بھی دل و دماغ اور آنکھوں سے جدا نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا جو نہ بتایا ہو، یہاں ان طریقوں کو چھوڑ کر نصرانی راہبوں اور ہندو جوگیوں کے طریقے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ٹھہرے۔ مثلاً روزے رکھنے کے بجائے ترک حیوانات جمالی و جلالی کیا گیا، یعنی کوئی حیوان یا اس سے نکلنے والی چیز مثلاً گوشت یا دودھ یا گھی نہ کھایا جائے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور مسنون اذکار کے بجائے سانس بند کر کے خود ساختہ وظیفوں کو، جن کے ساتھ تصور شیخ کا شرک ہو، ولایت کے حصول کا مستند طریقہ قرار دیا گیا۔ محنت اور کمائی کے بجائے لوگوں کے نذرانوں یا گدائی کے ٹکڑوں پر گزر کرنا فقر کی منزل قرار پایا۔ قرآن کی دعوت کے ساتھ جہاد کی تلوار لے کر دنیا پر اسلام کو غالب کرنے کی جدو جہد کے بجائے جنگلوں بیابانوں یا مقبروں اور خانقاہوں میں ” ہُو حق “ کی ضربیں مقصد حیات قرار پائیں۔
مسجدیں ویران ہوئیں اور مقبرے آباد ہوئے اور یہ کام کرنے والوں کی پارسائی اور روحانی اقتدار کے اتنے جھوٹے قصے مشہور کیے گئے کہ نصرانی راہبوں اور ہندو جوگیوں کی ولایت کے افسانے ان کے مقابلے میں ہیچ ہوگئے۔ احبار و رہبان کے باطل طریقوں کے ساتھ لوگوں کے مال کھانے اور اللہ کی راہ سے روکنے کا کوئی طریقہ باقی نہ رہا جو یہاں اختیار نہ کیا گیا ہو۔ جو لوگ دنیاوی مصروفیت کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکے انھوں نے بھی کتاب و سنت پر عمل کے بجائے ان خدا رسیدہ ہستیوں کی خدمت کو نجات کے لیے کافی سمجھا اور انھیں قیامت کے دن اپنا کار ساز سمجھ کر عمل سے فارغ ہوگئے۔ نتیجہ کفار کے غلبے اور مسلمانوں کی ذلت اور غلامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ اس کا علاج اب بھی وہی ہے جو اس مبارک سورت میں بتایا گیا ہے کہ رہبانیت کے بجائے پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق بسر کی جائے، لوگوں کے بنائے ہوئے طریقوں کے بجائے کتاب و سنت سے ثابت اعمال کی پابندی کی جائے اور اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اس کی راہ میں جہاد کیا جائے اور جان و مال کی قربانی سے کسی قسم کا دریغ نہ کیا جائے۔ کیونکہ جس طرح تورات و انجیل کی تعلیم رہبانیت کے بجائے قتال فی سبیل اللہ تھی اسی طرح قرآن مجید کی تعلیم بھی یہی ہے، دلیل اس کی یہ آیت ہے: «إِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَ يُقْتَلُوْنَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ وَ الْقُرْاٰنِ» [التوبۃ: ۱۱۱] ”بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے۔“
➒ { فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ:} ان میں دو قسم کے لوگ شامل ہیں، ایک وہ جو رہبانیت اور اس کے خود ساختہ عقائد و اعمال مثلاً تثلیث، قبر پرستی اور ترک دنیا کے بجائے صحیح ایمان و عمل پر قائم رہے، جو تورات و انجیل سے ثابت تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کا اجر عطا فرما دیا اور دوسرے وہ لوگ جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور آپ پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی ان کا اجر عطا فرما دیا۔
➓ {وَ كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ:} یعنی ان میں سے بہت سے لوگ وہ تھے جو اپنی خواہش کے خلاف اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
(1) ترک دنیا یعنی دنیا کی تمام تر لذات کو چھوڑ دینا۔
(2) ترک عقبیٰ یعنی آخرت کی جزاء و سزا سے بے نیاز ہو جانا۔
(3) ترک اکل و نوم۔ یعنی کھانا، پینا چھوڑ دینا یا کم سے کم سے کھانا اسی طرح نیند یا آرام کرنا بھی چھوڑ دینا۔
(4) ترک خواہش نفس۔ یعنی جو کچھ انسان کا جی چاہے اس کے برعکس کام کرنا۔
1۔ معاشرہ میں جو خدا ترس لوگ تھے وہ اپنی اس غلط روش کی بنا پر معاشرتی ذمہ داریوں اور دوسرے انسانی تعلقات سے ایک طرف ہو گئے جس سے اخلاق و تمدن، سیاست اور اجتماعیت کی جڑیں تک ہل گئیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت عیار اور ناخدا ترس لوگوں نے سنبھال لی۔ دنیا میں ’فساد فی الارض‘ کا دور دورہ ہو گیا اور اللہ کے بھیجے ہوئے پیغام ہدایت اور ضابطہ حیات کی انہی بزرگان دین کے ہاتھوں بیخ کنی ہوئی۔
3۔ اللہ کے حضور عبادت، عاجزی، تذلل اور زہد و تقویٰ صفات محمودہ ہیں لیکن ان راہبوں نے ان صفات میں اس قدر غلو کیا اور انکار ذات اور خود شکنی اتنے جوش سے کی کہ خود نگری اور خود شناسی جو قومی زندگی کے لیے روح رواں ہے ایک جرم سمجھا جانے لگا۔ انسان کو اپنی انسانیت سے شرم آنے لگی اور وہ اپنی ترقی انسانیت میں نہیں بلکہ ترک انسانیت میں سمجھنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اسے اشرف المخلوقات بنا کر باقی کائنات اس کے لیے مسخر کر دی تھی مگر وہ خود اس قدر بے اعتماد، افسردہ اور شکستہ دل ہو گیا کہ حیوانات بلکہ جمادات کو اپنے آپ پر ترجیح دینے لگا۔
4۔ چوتھا اثر یہ ہوا کہ معاشرہ میں باقی لوگ جن میں دینداری اور تقویٰ کے کچھ بھی اثرات پائے جاتے تھے، انہوں نے بھی ان راہبوں اور پیروں فقیروں کے آستانوں کا رخ کر لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے لیے مخصوص عبادت گاہیں اور مسجدیں تو آہستہ آہستہ ویران ہونے لگیں اور خانقاہوں، مزاروں اور آستانوں کی رونق بڑھنے لگی۔ انہی گو نا گوں مفاسد کے پیش نظر شریعت نے رہبانیت کو مذموم قرار دیا ہے۔
اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی مت کرو کیونکہ ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر سختی کی (یعنی ان کا ایجاد کردہ معیار ہی ان کی جانچ کے لیے مقرر کر دیا) اس قوم کا بقایا گر جوں اور خانقاہوں میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی۔ [ابوداؤد، كتاب الادب، باب الحسد]
3۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو کے باپ نے ان کی بڑے شوق اور چاؤ سے شادی کی۔ لیکن انہوں نے اپنی بیوی سے کوئی دلچسپی نہ رکھی۔ رات عبادت میں گزار دیتے اور دن روزہ رکھ کر۔ ان کے اس رویہ سے ان کی بیوی بھی ملول تھی اور باپ بھی۔ آخر باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت حال سے مطلع کیا۔ عبد اللہ بن عمرو خود بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: ”مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو روزے رکھے جاتا ہے اور افطار نہیں کرتا اور نماز پڑھے جاتا ہے ایسا کر کہ روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر، قیام بھی کر اور سو بھی۔ کیونکہ تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی اور بال بچوں کا بھی تجھ پر حق ہے“ میں نے عرض کیا: ”مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر داؤد جیسا روزہ رکھ“ میں نے پوچھا: ''وہ کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ ایک دن روز رکھتے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے اور دشمن کے مقابلہ میں بھاگتے نہیں تھے“ پھر آپ نے دوبارہ فرمایا:”جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے روزہ نہیں رکھا“ [بخاری، کتاب الصوم، باب حق الاہل فی الصوم]
یہ حدیث بخاری میں مختلف مقامات پر کئی طرح سے مذکور ہے۔ ایک روایت میں ہے۔ ”تیرے بدن اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے“ (باب حق الضیف) کے الفاظ زیادہ ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمرو کو دائمی روزہ رکھنے سے منع فرمایا تو انہوں نے کہا، مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے، تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تم مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ دس گنا اجر دے گا تو یہ تمہارے پورے مہینہ کے روزے ہو جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ نے کہا کہ ”مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے“ تب آپ نے فرمایا: ”اچھا ایک دن روزہ رکھو اور دوسرے دن چھوڑ دو۔“ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دائمی روزہ رکھے اس کا کوئی روزہ نہیں۔“
4۔ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ تین آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھر آئے (سیدنا علی، عبد اللہ بن عمرو اور عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہم) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ جب انہیں بتایا گیا تو انہوں نے گویا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی عبادت کو) کم سمجھا اور کہنے لگے، کہاں ہم اور کہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کے پہلے اور پچھلے سب گناہ معاف کئے جا چکے ہیں (یعنی ہمیں ان سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے) پھر ایک نے کہا:”میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔“ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی روزہ نہ چھوڑوں گا اور تیسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا اور کبھی شادی نہ کروں گا۔ اتنے میں آپ تشریف لے آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بلا کر پوچھا کہ ”کیا تم لوگوں نے یہ اور یہ باتیں کی ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور پرہیزگار ہوں۔ اس کے باوجود میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جو کوئی میری سنت کو ناپسند کرے اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں“ [بخاري، كتاب النكاح، باب الترغيب فى النكاح] اس حدیث میں مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں۔
(1) مجرد زندگی گزارنا، معاشرتی زندگی سے گریز تاکہ یکسوئی سے عبادت کی جا سکے، بدن کو فاقوں مار کر تزکیہ نفس کرنا اور عبادت میں خواہ کیسی ہی افضل نہ ہو، سنت نبوی سے آگے بڑھنا۔ یہ سب باتیں سنت مطہرہ کے خلاف ہیں۔ اگر صرف یہی چیزیں رہبانیت سے نکال دی جائیں تو رہبانیت کی عمارت از خود زمین بوس ہو جاتی ہے۔
(2) آپ نے سنت کی آخری حد سے مطلع فرما دیا۔ اب جو شخص زہد، تقویٰ اور عبادت کے میدان میں آپ کی مقررہ حدود سے آگے نکلے گا تو وہ بدعت، ضلالت اور کفر ہی ہو گا اور یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بدعت ہمیشہ نیک ارادوں اور ثواب کی نیت سے ہی شروع کی جاتی ہے۔
(3) سنت کا تارک گنہگار ہوتا ہے لیکن سنت سے زیادہ عمل کرنے والا جو شریعت کی حدود کو کم سمجھ کر اس میں اضافہ کر رہا ہے۔ وہ بدعتی، گمراہ اور گمراہ کنندہ ہے۔ بعد میں جو لوگ اس بدعت پر عمل پیرا ہوں گے حصہ رسدی اس کا گناہ بدعت جاری کرنے والے کو بھی پہنچتا رہے گا۔
[50] ان رہبانیت اختیار کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ گناہ کی آلودگیوں میں ملوث ہو گئے۔ تھوڑے ہی تھے جو خالصتاً اللہ کی عبادت میں مشغول رہے ان کو ان کے نیک عمل کا اجر مل جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ» ۱؎ [29-العنكبوت:27] یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سنائی۔
پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا عیسیٰ علیہ السلام تک جنہیں انجیل ملی اور جن کی تابع فرمان امت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی، خشیت الٰہی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف۔
پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد کر لی تھی، اس کے بعد کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے یہ طریقہ نکالا تھا۔ سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی۔
ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پکارا آپ رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہو گئے جن میں سے تین نے نجات پائی، پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لیے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے، ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا، قید بھی کیا، ان لوگوں نے تو نجات حاصل کر لی، پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا، آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی، پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں، اس لیے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں، عبادت میں مشغول ہو جائیں اور دنیا کو ترک کر دیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا» ۱؎ [57-الحديد:27] میں ہے۔ } ۱؎ [طبرانی کبیر:10357:ضعیف]
یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33677:ضعیف]
اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنا دو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں۔
ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سر زمین سے باہر ہو جاتے ہیں چشموں، نہروں، ندیوں، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کر لیں گے۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا۔
تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دیدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کر لیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے۔
چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لیے یہ درخواستیں منظور کر لی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے، ان کے بارے میں یہ آیت «وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّـهِ» الخ ۱؎ [57-الحديد:27] نازل ہوئی۔
پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [57-سورةالحديد:28]، یعنی ’ ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (یعنی عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو (یعنی قرآن و سنت) تاکہ اہل کتاب جان لیں (جو تم جیسے ہیں) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘ یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آ رہی ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
ایک شخص ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔ میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر۔ وہی آسمان میں، زمین میں، تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:82/3:صحیح] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم قَفَّيْنا}؛ أي: أتبعنا {على آثارِهم برُسُلِنا وقفَّيْنا بعيسى ابن مريم}: خصَّ الله عيسى عليه السلام؛ لأنَّ السياق مع النصارى، الذين يزعُمون اتِّباع عيسى، {وآتَيْناه الإنجيل}: الذي هو من كتب الله الفاضلة، {وجَعَلْنا في قلوب الذين اتَّبعوه رأفةً ورحمةً}؛ كما قال تعالى: {لَتَجِدَنَّ أشدَّ الناس عداوةً للذين آمنوا اليهودَ والذين أشركوا ولَتَجِدَنَّ أقرَبَهم مودَّةً للذين آمنوا الذين قالوا إنا نصارى ذلك بأنَّ منهم قِسِّيسينَ ورُهْباناً وأنَّهم لا يستكبرونَ ... } الآيات، ولهذا كان النصارى ألين من غيرهم قلوباً حين كانوا على شريعة عيسى عليه السلام، {ورهبانيةً ابْتَدَعوها}: والرهبانيَّة العبادةُ؛ فهم ابتدعوا من عند أنفسهم عبادةً، ووظَّفوها على أنفسهم، والتزموا لوازم ما كتبها الله عليهم ولا فرضها، بل هم الذين التزموا بها من تلقاء أنفسهم؛ قصْدُهم بذلك رضا الله، ومع ذلك؛ {فما رَعَوْها حقَّ رعايتها}؛ أي: ما قاموا بها، ولا أدَّوْا حقوقها، فقصَّروا من وجهين: من جهة ابتداعهم، ومن جهة عدم قيامهم بما فَرَضوه على أنفسهم. فهذه الحالُ هي الغالبُ من أحوالهم، ومنهم من هو مستقيمٌ على أمر الله، ولهذا قال: {فآتَيْنا الذين آمنوا منهم أجْرَهُم}؛ أي: الذين آمنوا بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - مع إيمانهم بعيسى؛ كلٌّ أعطاه الله على حسب إيمانِهِ، {وكثيرٌ منهم فاسقونَ}.