اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی، پھر ان میں سے کچھ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور ان میں سے زیادہ نافرمان ہیں۔
En
اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (کے سلسلے) کو (وقتاً فوقتاً جاری) رکھا تو بعض تو ان میں سے ہدایت پر ہیں۔ اور اکثر ان میں سے خارج از اطاعت ہیں
بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اوﻻد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی تو ان میں سے کچھ تو راه یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر بہت نافرمان رہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں، یعنی حضرت نوح اور ابراہیم علیہما السلام کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدْاَرْسَلْنَانُوْحًاوَّاِبْرٰهِیْمَوَجَعَلْنَافِیْذُرِّیَّتِهِمَاالنُّبُوَّةَوَالْكِتٰبَ﴾”بے شک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی۔“ یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم علیہما السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انھی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں ﴿ فَمِنْهُمْ﴾ یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیے، بعض لوگ﴿ مُّهْتَدٍ﴾ ان انبیاء کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ، ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ ﴿ وَؔكَثِیْرٌمِّؔنْهُمْفٰسِقُوْنَ﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَمَاۤاَكْثَرُالنَّاسِوَلَوْحَرَصْتَبِمُؤْمِنِیْنَ﴾ (یوسف: 12؍103)”اور اکثر لوگ، خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما ذكر نبوَّة الأنبياء عموماً؛ ذكر من خواصِّهم النَّبِيَّيْنِ الكريميْنِ نوحاً وإبراهيم، اللَّذين جعل الله النبوَّة والكتاب في ذُرِّيَّتهما، فقال: {ولقد أرسَلْنا نوحاً وإبراهيم وجَعَلْنا في ذُرِّيَّتِهِما النبوَّةَ والكتابَ}؛ أي: الأنبياء المتقدِّمين والمتأخِّرين، كلُّهم من ذُرِّيَّة نوح وإبراهيم عليهما السلام، وكذلك الكتب كلُّها نزلت على ذُرِّيَّة هذين النبيَّيْنِ الكريميْنِ. {فمنهم}؛ أي: ممَّن أرسلنا إليهم الرسل {مهتدٍ}: بدعوتهم، منقادٌ لأمرهم، مسترشدٌ بهداهم، {وكثيرٌ منهم فاسقون}؛ أي: خارجون عن طاعة الله وطاعة رسله ؛ كما قال تعالى: {وما أكثر الناس ولو حرصْتَ بمؤمنينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔