تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 6

فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ ۘ یَوۡمَ یَدۡعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیۡءٍ نُّکُرٍ ۙ﴿۶﴾
سو ان سے منہ پھیر لے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔ En
تو تم بھی ان کی کچھ پروا نہ کرو۔ جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا
En
پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے واﻻ ناگوار چیز کی طرف پکارے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی کہ اہل تکذیب کی ہدایت کا اب کوئی حیلہ نہیں، ان کے اندر روگردانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا تو فرمایا: ﴿ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ چنانچہ (اے نبی!) آپ بھی ان سے اعراض کریں۔ آپ ان کے لیے ایک بہت بڑے دن اور ایک بہت بڑی گھبراہٹ اور خوف کا انتظار کیجیے۔ یہ وہ دن ہو گا جب ﴿ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ پکارنے والا پکارے گا یعنی حضرت اسرافیل علیہ السلام ﴿ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍ یعنی ایک بہت ہی برے معاملے کی طرف، طبیعت جس کا انکار کرے گی، تو نے اس سے برا اور اس سے بڑھ کر درد ناک منظر نہیں دیکھا ہوگا، پس اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر قیامت (کے میدان) میں کھڑے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لرسوله - صلى الله عليه وسلم -: قد بان أنَّ المكذِّبين لا حيلة في هداهم، فلم يبق إلاَّ الإعراضُ عنهم ، فقال: {فتولَّ عنهم}: وانتظرْ بهم يوماً عظيماً وهولاً جسيماً، وذلك حين {يَدعُ الداعِ}؛ وهو إسرافيلُ عليه السلام {إلى شيء نُكُرٍ}؛ أي: إلى أمر فظيع تنكره الخليقة، فلم تر منظراً أفظع ولا أوجع منه، فينفخُ إسرافيل نفخةً يخرج بها الأمواتُ من قبورهم لموقف القيامة.