تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ حِكْمَةٌۢبَ٘الِغَةٌ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔
﴿فَمَاتُ٘غْنِالنُّذُرُ﴾”پھر محض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَایُؤْمِنُوْنَۙ۰۰وَلَوْجَآءَتْهُمْكُ٘لُّاٰیَةٍحَتّٰىیَرَوُاالْعَذَابَالْاَلِیْمَ﴾ (یونس: 10؍96، 97) ”وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وذلك {حكمةٌ}: منه تعالى {بالغةٌ}؛ أي: لتقوم حجَّته على العالمين ، ولا يبقى لأحدٍ على الله حجَّةٌ بعد الرسل، {فما تغني النُّذُر}؛ كقوله تعالى: {ولو جاءتهم كلُّ آيةٍ لا يؤمنوا حتى يَرَوُا العذابَ الأليم}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔