تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 5

حِکۡمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ ۙ﴿۵﴾
کامل دانائی کی بات ہے، پھر (بھی) ڈرانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ En
اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا
En
اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائده نہ دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ حِكْمَةٌۢ بَ٘الِغَةٌ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔
﴿فَمَا تُ٘غْنِ النُّذُرُ پھر محض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ۰۰وَلَوْ جَآءَتْهُمْ كُ٘لُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ (یونس: 10؍96، 97) وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذلك {حكمةٌ}: منه تعالى {بالغةٌ}؛ أي: لتقوم حجَّته على العالمين ، ولا يبقى لأحدٍ على الله حجَّةٌ بعد الرسل، {فما تغني النُّذُر}؛ كقوله تعالى: {ولو جاءتهم كلُّ آيةٍ لا يؤمنوا حتى يَرَوُا العذابَ الأليم}.