فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ ۘ یَوۡمَ یَدۡعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیۡءٍ نُّکُرٍ ۙ﴿۶﴾
سو ان سے منہ پھیر لے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔
En
تو تم بھی ان کی کچھ پروا نہ کرو۔ جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا
En
پس (اے نبی) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے واﻻ ناگوار چیز کی طرف پکارے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 6) ➊ { فَتَوَلَّ عَنْهُمْ:} یعنی جب ان لوگوں کو کسی تنبیہ یا ڈرانے کا کچھ فائدہ ہی نہیں ہوتا تو آپ بھی ان سے منہ پھیر لیں اور انھیں ان کے حال پر رہنے دیں۔ آپ کے ذمے پہنچانا تھا، وہ آپ نے پہنچا دیا۔
➋ {يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ: ” يَوْمَ “} منصوب بنزع الخافض ہے، یعنی اس سے پہلے حرفِ جار {”إِلٰي“} ہے جسے حذف کرنے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ (بغوی) آلوسی نے کہا: {” هٰذَا قَوْلُ الْحَسَنِ “} کہ یہ حسن کا قول ہے یعنی {” فَتَوَلَّ عَنْهُمْ إِلٰی يَوْمٍ يَدْعُ الدَّاعِ فِيْهِ إِلٰی شَيْءٍ نُّكُرٍ “} ”سو ان سے منہ پھیر لے، اس دن تک جس میں پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔“ یا {” يَوْمَ “} فعل محذوف {”اُنْظُرْ“} کے ساتھ منصوب ہے، یعنی ”ان سے منہ پھیر لے اور اس دن کا انتظار کر جب…۔“ پکارنے والے سے مراد اسرافیل علیہ السلام ہیں، جن کے نفخہ سے تمام لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ {” يَدْعُ “} اصل میں {”يَدْعُوْ“} ہے، واؤ چونکہ یہاں پڑھنے میں نہیں آتی اس لیے مصحفِ عثمان میں لکھی نہیں گئی۔ {” الدَّاعِ “} اصل میں {”الدَّاعِيُ“} ہے، ”یاء“ تخفیف کے لیے حذف کی گئی ہے اور {” شَيْءٍ نُّكُرٍ “} سے مراد حساب کتاب ہے {” نُكُرٍ “} بمعنی {” مُنْكِرٌ “} ہے، ناگوار، اجنبی، انوکھی چیز جو کبھی دیکھی نہ ہو گی۔
➋ {يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍ: ” يَوْمَ “} منصوب بنزع الخافض ہے، یعنی اس سے پہلے حرفِ جار {”إِلٰي“} ہے جسے حذف کرنے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ (بغوی) آلوسی نے کہا: {” هٰذَا قَوْلُ الْحَسَنِ “} کہ یہ حسن کا قول ہے یعنی {” فَتَوَلَّ عَنْهُمْ إِلٰی يَوْمٍ يَدْعُ الدَّاعِ فِيْهِ إِلٰی شَيْءٍ نُّكُرٍ “} ”سو ان سے منہ پھیر لے، اس دن تک جس میں پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف بلائے گا۔“ یا {” يَوْمَ “} فعل محذوف {”اُنْظُرْ“} کے ساتھ منصوب ہے، یعنی ”ان سے منہ پھیر لے اور اس دن کا انتظار کر جب…۔“ پکارنے والے سے مراد اسرافیل علیہ السلام ہیں، جن کے نفخہ سے تمام لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ {” يَدْعُ “} اصل میں {”يَدْعُوْ“} ہے، واؤ چونکہ یہاں پڑھنے میں نہیں آتی اس لیے مصحفِ عثمان میں لکھی نہیں گئی۔ {” الدَّاعِ “} اصل میں {”الدَّاعِيُ“} ہے، ”یاء“ تخفیف کے لیے حذف کی گئی ہے اور {” شَيْءٍ نُّكُرٍ “} سے مراد حساب کتاب ہے {” نُكُرٍ “} بمعنی {” مُنْكِرٌ “} ہے، ناگوار، اجنبی، انوکھی چیز جو کبھی دیکھی نہ ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یعنی اس دن کو یاد کرو، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے آزمائشیں ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ لہٰذا آپ ان کی پروا [6] نہ کیجئے۔ جس دن پکارنے والا ایک ناگوار [7] چیز کی طرف پکارے گا۔
[6] یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجئے اور ایسے ضدی انسانوں کی ہدایت کے لالچ میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔ یہ لوگ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ [7] نکر کا ایک معنی ناگوار ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا معنی انجانی اور اجنبی چیز ہے یعنی جب وہ حساب کتاب کے لیے بلائے جائیں گے تو یہ بات ان کے لیے بالکل انوکھی ہو گی جس کا انہیں خواب و خیال تک نہ تھا کہ اس طرح انہیں زندہ کر کے حساب کتاب کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
معجزات بھی بےاثر ٭٭
رشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تم ان کافروں کو جنہیں معجزہ وغیرہ بھی کارآمد نہیں، چھوڑ دو، ان سے منہ پھیر لو اور انہیں قیامت کے انتظار میں رہنے دو، اس دن انہیں حساب کی جگہ ٹھہرنے کے لیے ایک پکارنے والا پکارے گا جو ہولناک جگہ ہو گی، جہاں بلائیں اور آفات ہوں گی، ان کے چہروں پر ذلت اور کمینگی برس رہی ہو گی، مارے ندامت کے آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی ہوں گی اور قبروں سے نکلیں گے، پھر جس طرح ٹڈی دل چلتا ہے یہ بھی انتشار و سرعت کے ساتھ میدان حساب کی طرف بھاگیں گے، پکارنے والے کی پکار پر کان ہوں گے اور تیز تیز چل رہے ہوں گے، نہ مخالفت کی تاب ہے، نہ دیر لگانے کی طاقت «ذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ» * «عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ» [74-المدثر:9،10] اس سخت ہولناکی کے سخت دن کو دیکھ کر کافر چیخ اٹھیں گے کہ یہ تو بڑا بھاری اور بےحد سخت دن ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی کہ اہل تکذیب کی ہدایت کا اب کوئی حیلہ نہیں، ان کے اندر روگردانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا تو فرمایا: ﴿ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ﴾ ”چنانچہ (اے نبی!) آپ بھی ان سے اعراض کریں۔“ آپ ان کے لیے ایک بہت بڑے دن اور ایک بہت بڑی گھبراہٹ اور خوف کا انتظار کیجیے۔ یہ وہ دن ہو گا جب ﴿ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ﴾ ”پکارنے والا پکارے گا“ یعنی حضرت اسرافیل علیہ السلام ﴿ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍ﴾ یعنی ایک بہت ہی برے معاملے کی طرف، طبیعت جس کا انکار کرے گی، تو نے اس سے برا اور اس سے بڑھ کر درد ناک منظر نہیں دیکھا ہوگا، پس اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر قیامت (کے میدان) میں کھڑے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لرسوله - صلى الله عليه وسلم -: قد بان أنَّ المكذِّبين لا حيلة في هداهم، فلم يبق إلاَّ الإعراضُ عنهم ، فقال: {فتولَّ عنهم}: وانتظرْ بهم يوماً عظيماً وهولاً جسيماً، وذلك حين {يَدعُ الداعِ}؛ وهو إسرافيلُ عليه السلام {إلى شيء نُكُرٍ}؛ أي: إلى أمر فظيع تنكره الخليقة، فلم تر منظراً أفظع ولا أوجع منه، فينفخُ إسرافيل نفخةً يخرج بها الأمواتُ من قبورهم لموقف القيامة.