تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ خُشَّعًااَبْصَارُهُمْ﴾”ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔“ یعنی اس دہشت اور گھبراہٹ کے باعث جو ان کے دلوں میں پہنچ کر ان کو عاجز اور کمزور کر دے گی اور اس بنا پر ان کی نگاہیں پست ہو جائیں گی۔ ﴿ یَخْرُجُوْنَمِنَالْاَجْدَاثِ﴾ وہ قبروں سے یوں نکلیں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمْ﴾”جیسے کہ وہ۔“ اپنی کثرت اور بے ترتیب ہونے کی وجہ سے ﴿ جَرَادٌمُّنْتَشِرٌ﴾”منتشر ٹڈی دل ہوں۔“ یعنی وہ زمین میں پھیلے ہوئے اور بہت زیادہ ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{خُشَّعاً أبصارُهم}؛ أي: من الهول والفزع الذي وصل إلى قلوبهم، فخضعت وذلَّت، وخشعت لذلك أبصارهم {يخرجون من الأجْداثِ}: وهي القبورُ {كأنَّهم}: من كثرتهم ورَوَجان بعضهم ببعض {جرادٌ منتشرٌ}؛ أي: مبثوثٌ في الأرض متكاثرٌ جدًّا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔