ترجمہ و تفسیر — سورۃ القمر (54) — آیت 46

بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ ﴿۴۶﴾
بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے اور قیامت زیادہ بڑی مصیبت اور زیادہ کڑوی ہے۔ En
ان کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہے
En
بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے وعدے کے وقت ہے اور قیامت بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46){ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ …: دَاهِيَةٌ} بڑی مصیبت کو کہتے ہیں اور { اَدْهٰى } زیادہ بڑی مصیبت۔ {مُرٌّ} (میم کے ضمہ کے ساتھ) تلخ، کڑوا۔ {مَرَّ يَمُرُّ مَرَارَةً} (ن) کڑوا ہونا۔ {اَمَرُّ} اس سے اسم تفضیل ہے، زیادہ تلخ۔ یعنی دنیا میں ہونے والی شکست بھی اگرچہ بڑی مصیبت اور بہت تلخ ہے کہ اس میں قتل، گرفتاری، غلامی، ذلت و رسوائی اور کئی طرح کی سزائیں ہیں، مگر اصل سزا کا وعدہ تو قیامت کے دن ہے اور قیامت دنیا کی مصیبتوں سے کہیں زیادہ بڑی مصیبت اور بہت زیادہ تلخ ہے، کیونکہ دنیا کی مصیبت اور تلخی آخر کار ختم ہونے والی ہے، مگر آخرت کی سزا کبھی ختم ہونے والی نہیں، پھر وہاں کی آگ دنیا کی آگ سے ستر(۷۰) گنا زیادہ سخت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 یعنی دنیا میں جو یہ قتل کئے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ بلکہ ان سے (نمٹنے کا اصل) وعدہ تو قیامت ہے اور قیامت بڑی دہشت ناک [32] اور تلخ تر ہے۔
[32] مسلمانوں سے انتقام لینے والی جماعت کو یہ سزا تو دنیا میں ملی اور اصل سزا تو قیامت کو ملنے والی ہے جو اس سزا سے دہشت ناک بھی زیادہ ہو گی اور دردناک بھی زیادہ ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا: ﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع ذلك؛ فلهم موعدٌ يجمع به أولهم وآخرهم ومن أصيب في الدُّنيا منهم ومن متع بلذاته، ولهذا قال: {بل الساعةُ موعدُهم}: الذي يجازون به ويؤخذ منهم الحقُّ بالقسط، {والساعةُ أدهى وأمرُّ}؛ أي: أعظم وأشقُّ وأكبر من كلِّ ما يتوهَّم أو يدور في الخيال.