تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے: ﴿ سَیُهْزَمُالْ٘جَمْعُوَیُوَلُّوْنَالدُّبُرَ﴾”عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى مبيناً لضعفهم وأنهم مهزومون: {سيُهْزَمُ الجمعُ ويولُّون الدُّبُرَ}: فوقع كما أخبر؛ هزم الله جمعهم الأكبر يوم بدرٍ، وقُتلت صناديدُهم وكبراؤهم، فأذلُّوا ، ونصر الله دينه ونبيَّه وحزبه المؤمنين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔