تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاَنَّهٗهُوَرَبُّالشِّ٘عْرٰى ﴾”اور یقیناً وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے۔“ یہ مشہور ستارہ”شعریٰ عبور“ ہے جو”مرزم“ کے نام سے موسوم ہے۔ اگرچہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے تاہم شعریٰ کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا ہے کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں اس کی عبادت کی جاتی تھی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اشیاء جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں مربوب، مدبر اور مخلوق ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو کیسے معبود قرار دیا جا سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنَّه هو ربُّ الشِّعرى}: وهو النجم المعروف بالشِّعْرى العبور، المسماة بالمرزم، وخصَّها الله بالذِّكر وإن كان هو ربُّ كلِّ شيء؛ لأنَّ هذا النجم مما عُبد في الجاهلية، فأخبر تعالى أنَّ جنس ما يعبد المشركون مربوبٌ مدبَّرٌ مخلوقٌ؛ فكيف يُتَّخَذُ مع الله آلهة؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔