ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 49

وَ اَنَّہٗ ہُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰی ﴿ۙ۴۹﴾
اور یہ کہ وہی شعریٰ (ستارے) کارب ہے۔ En
اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے
En
اور یہ کہ وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 48 میں تا آیت 50 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 رب تو وہ ہر چیز کا ہے، یہاں ستارے کا نام اس لئے لیا ہے کہ بعض عرب قبائل اس کی پوجا کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ اور یہ کہ وہی شعریٰ [34] کا مالک ہے۔
[34] شعری ستارہ اور اس کے پجاری :۔
مشرکین عرب تین مشہور دیویوں لات، منات اور عزیٰ کے علاوہ آسمان کے دیوتاؤں میں سے شعریٰ سیارہ کی بھی پرستش کرتے تھے۔ یہ سیارہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے اور اس کا زمین سے فاصلہ 8 نوری سال سے بھی زیادہ ہے۔ (واضح رہے کہ سورج ہم سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے اور اس کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے 8 منٹ میں ہم تک پہنچتی ہے۔ گویا ہماری زمین اور سورج کا فاصلہ 8 نوری منٹ ہے۔ اسی سے 8 نوری سال کا حساب لگا لیجئے) لہٰذا یہ سورج سے بہت چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے۔ اہل مصر اس کی پرستش کرتے تھے کہ اسی سیارہ کے طلوع کے زمانہ میں نیل کا فیضان شروع ہوتا تھا۔ اور اہل مصر یہ سمجھتے تھے کہ اسی سیارہ کے طلوع ہونے کا فیضان ہے۔ اہل عرب میں سے خصوصاً قریش اور خزاعہ اس کی پرستش کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ باطلہ کی تردید کی اور فرمایا تمہاری قسمتوں کا مالک شعریٰ نہیں بلکہ وہ اللہ ہے جو شعریٰ کا بھی مالک ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّ٘عْرٰى اور یقیناً وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے۔ یہ مشہور ستارہشعریٰ عبور ہے جومرزم کے نام سے موسوم ہے۔ اگرچہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے تاہم شعریٰ کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا ہے کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں اس کی عبادت کی جاتی تھی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اشیاء جن کی مشرکین عبادت کرتے ہیں مربوب، مدبر اور مخلوق ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو کیسے معبود قرار دیا جا سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّه هو ربُّ الشِّعرى}: وهو النجم المعروف بالشِّعْرى العبور، المسماة بالمرزم، وخصَّها الله بالذِّكر وإن كان هو ربُّ كلِّ شيء؛ لأنَّ هذا النجم مما عُبد في الجاهلية، فأخبر تعالى أنَّ جنس ما يعبد المشركون مربوبٌ مدبَّرٌ مخلوقٌ؛ فكيف يُتَّخَذُ مع الله آلهة؟!