تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 48

وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَغۡنٰی وَ اَقۡنٰی ﴿ۙ۴۸﴾
اور یہ کہ اسی نے غنی کیا اور خزانہ بخشا۔ En
اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس کرتا ہے
En
اور یہ کہ وہی مالدار بناتا ہے اور سرمایہ دیتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَنَّهٗ هُوَ اَغْ٘نٰى وَاَ٘قْنٰى اور بے شک وہی غنی کرتا ہے اور وہی دولت دیتا ہے۔ وہ بندوں کو ان کے معاشی معاملات یعنی تجارت اور صنعت و حرفت کے مختلف پیشوں میں آسانی پیدا کر کے مال دار بناتا ہے۔ ﴿وَاَ٘قْنٰى یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کو مال کی تمام انواع عطا کرتا ہے جس سے وہ مال دار بن کر بہت سے اموال کے مالک بن جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے بندوں کو آگاہ فرمایا کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور یہ چیز بندوں پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اسی اکیلے کی عبادت کریں جس کا کوئی شریک نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّه هو أغنى وأقنى}؛ أي: أغنى العباد بتيسير أمر معاشهم من التِّجارات وأنواع المكاسب من الحِرَف وغيرها، {وأقنى}؛ أي: أفاد عباده من الأموال بجميع أنواعها ما يصيرون به مقتنين لها ومالكين لكثيرٍ من الأعيان، وهذا من نعمه تعالى؛ أنْ أخبرهم أنَّ جميع النعم منه، وهذا يوجب للعبادِ أنْ يشكُروه ويعبدُوه وحدَه لا شريك له.