اس آیت کی تفسیر آیت 47 میں تا آیت 49 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 یعنی کسی کو اتنی تونگری دیتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور اسکی تمام حاجتیں پوری ہوجاتی ہیں اور کسی کو اتنا سرمایا دے دیتا ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زائد بچ رہتا ہے اور وہ اس کو جمع کرکے رکھتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ اور یہ کہ وہی دولت مند بناتا اور مفلس [33] کرتا ہے۔
[33] ﴿اقنٰي﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿اقني﴾ بمعنی غنی کرنا اور راضی کرنا (مفردات) یعنی اتنا مال و دولت دینا کہ اس کی احتیاج پوری کرنے کے علاوہ وہ خوش بھی ہو جائے اور بعض اہل لغت کے نزدیک ﴿اقنٰي﴾اغنیٰ کی ضد ہے بمعنی مفلس بنا دینا۔ گویا ﴿اقني﴾ لغت اضداد سے ہے۔ ان آیات میں چونکہ متقابل چیز کا ذکر ہو رہا ہے۔ لہٰذا یہاں دوسرا معنی ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ فلہٰذا ترجمہ میں یہی دوسرا معنی اختیار کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاَنَّهٗهُوَاَغْ٘نٰىوَاَ٘قْنٰى ﴾”اور بے شک وہی غنی کرتا ہے اور وہی دولت دیتا ہے۔“ وہ بندوں کو ان کے معاشی معاملات یعنی تجارت اور صنعت و حرفت کے مختلف پیشوں میں آسانی پیدا کر کے مال دار بناتا ہے۔ ﴿وَاَ٘قْنٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کو مال کی تمام انواع عطا کرتا ہے جس سے وہ مال دار بن کر بہت سے اموال کے مالک بن جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے بندوں کو آگاہ فرمایا کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں اور یہ چیز بندوں پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں اور اسی اکیلے کی عبادت کریں جس کا کوئی شریک نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنَّه هو أغنى وأقنى}؛ أي: أغنى العباد بتيسير أمر معاشهم من التِّجارات وأنواع المكاسب من الحِرَف وغيرها، {وأقنى}؛ أي: أفاد عباده من الأموال بجميع أنواعها ما يصيرون به مقتنين لها ومالكين لكثيرٍ من الأعيان، وهذا من نعمه تعالى؛ أنْ أخبرهم أنَّ جميع النعم منه، وهذا يوجب للعبادِ أنْ يشكُروه ويعبدُوه وحدَه لا شريك له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔