تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 47

وَ اَنَّ عَلَیۡہِ النَّشۡاَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿ۙ۴۷﴾
اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوسری دفعہ پیدا کرنا ہے۔ En
اور یہ کہ (قیامت کو) اسی پر دوبارہ اٹھانا لازم ہے
En
اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوباره پیدا کرنا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے وجود کے ذریعے سے اعادۂ وجود پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى پس اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرے گا، ان کو یوم موعود میں اکٹھا کرے گا اور ان کو ان کی نیکیوں اور برائیوں کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا استدلَّ بالبداءة على الإعادة، فقال: {وأنَّ عليه النشأةَ الأخرى}: فيعيد العباد من الأجداث، ويجمعهم ليوم الميقات، ويجازيهم على الحسنات والسيئات.