یہ (بت) چند ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، ان کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی۔
En
وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے
دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنْهِیَاِلَّاۤاَسْمَآءٌسَمَّیْتُمُوْهَاۤاَنْتُمْوَاٰبَآؤُكُمْمَّاۤاَنْزَلَاللّٰهُبِهَامِنْسُلْطٰ٘نٍ﴾”یہ تو صرف نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں۔ اللہ نے تو ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔“ یعنی تمھارے مذہب کے صحیح ہونے پر تمھارے پاس کوئی دلیل و برہان نہیں۔ ہر وہ امر جس پر اللہ تعالیٰ نے دلیل نازل نہ کی ہو، باطل اور فاسد ہوتا ہے، اسے دین نہیں بنایا جا سکتا۔ درحقیقت وہ کسی دلیل و برہان کی پیروی نہیں کرتے کہ انھیں اپنے مذہب کے صحیح ہونے کا یقین ہو۔ محض گمان فاسد، جہالت، خواہشات نفس پر مبنی مشرکانہ عقائد اور خواہشات نفس کے موافق بدعات ان کے نظریات کی دلیل ہیں، حالانکہ علم و ہدایت کے فقدان کی وجہ سے، وہم و گمان کے سوا کوئی ایسا موجب نہیں جو اس کا تقاضا کرتا ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَقَدْجَآءَهُمْمِّنْرَّبِّهِمُالْهُدٰؔى ﴾”اور البتہ یقیناً ان کے رب کی طرف سے، ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔“ جو توحید و نبوت اور ان تمام امور میں ان کی راہ نمائی کرتی ہے، بندے جن کے محتاج ہیں، پس ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین، واضح ترین اور مضبوط ترین دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے اس پر دلائل و براہین قائم کیے ہیں جو ان کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے اتباع کے موجب ہیں۔ اس بیان و برہان کے بعد کسی کے لیے کوئی حجت اور عذر باقی نہیں رہا۔جب ان کے مذہب کی غرض و غایت محض ظن و گمان کی پیروی، اس کی انتہا شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی ہے، تو (ان کا) اس حال پر باقی رہنا سب سے بڑی سفاہت اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {إنْ هي إلاَّ أسماءٌ سمَّيْتموها أنتم وآباؤكم ما أنزل الله بها من سلطانٍ}؛ أي: من حجَّة وبرهان على صحَّة مذهبكم، وكلُّ أمرٍ ما أنزل الله فيه من سلطانٍ؛ فهو باطلٌ فاسدٌ لا يُتَّخذ ديناً، وهم في أنفسهم ليسوا بمتَّبعين لبرهان يتيقَّنون به ما ذهبوا إليه، وإنَّما دلَّهم على قولهم الظنُّ الفاسد والجهل الكاسد، وما تهواه أنفسُهم من الشرك والبدع الموافقة لأهويتهم، والحالُ أنَّه لا موجب لهم يقتضي اتِّباعهم الظنَّ من فقدِ العلم والهدى، ولهذا قال تعالى: {ولقد جاءهم من ربِّهم الهدى}؛ أي: الذي يرشدهم في باب التوحيد والنبوَّة وجميع المطالب التي يحتاج إليها العباد؛ فكلُّها قد بيَّنها الله أكمل بيان وأوضحه وأدلَّه على المقصود، وأقام عليه من الأدلَّة والبراهين ما يوجب لهم ولغيرهم اتِّباعه، فلم يبق لأحدٍ حجَّة ولا عذر من بعد البيان والبرهان، وإذا كان ما هم عليه غايته اتِّباع الظنِّ ونهايته الشقاءُ الأبديُّ والعذاب السرمديُّ؛ فالبقاء على هذه الحال من أسفه السَّفه وأظلم الظلم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔